حدیث

جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے یہ خوشخبری دی کہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو بھی آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت بھیجوں گا اور جو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا ۔تو میں نے اللہ عزوجل کے لیے شکرانے کا سجدہ کیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فتوجه نحو صدقته فدخل، فاستقبل القبلة فَخَرَّ ساجداً، فأطال السجود حتى ظننت أن الله عز وجل قبض نفسه فيها، فَدَنَوْتُ منه، ثم جلستُ فرفع رأسه، فقال: من هذا؟ قلت عبد الرحمن، قال: ما شأنك؟ قلت: يا رسول الله سجدت سجدة خشيت أن يكون الله عز وجل قد قَبَضَ نَفْسَكَ فيها، فقال: إن جبريل -عليه السلام-، أتاني فَبَشَّرَنِي ، فقال: إن الله عز وجل يقول: من صلى عليك صَلَّيْتُ عليه، ومن سلم عليك سَلَّمْتُ عليه، فسجدت لله عز وجل شكراً.

ترجمہ

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ گھر سے نکلے،اور صدقہ کے لیے متوجہ ہوئے،پھر (مسجد میں) داخل ہوئے، اور قبلہ رو ہو ئے اور سجدہ میں چلے گئے۔ آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے گمان ہوا کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح ہی قبض نہ کر لی ہو۔ میں آپ کے قریب ہو کر بیٹھ گیا تو آپ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا کہ یہ کون ہے؟ میں نے کہا عبدالرحمٰن! آپ نے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ کے رسول (ﷺ) آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے ڈر پیدا ہو گیا کہ کہیں اسی حالت میں آپ کی روح قبض کر لی گئی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے یہ خوشخبری دی کہ: اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ جو بھی آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت بھیجوں گا اور جو تجھ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا۔ تو میں نے اللہ کے لیے شکرانے کا سجدہ کیا۔

تشریح

اس حدیث شریف میں نعمت کے حصول پر یا کوئی خوش کن یا اچھی خبر ملنے پر سجدۂ شکر کی مشروعیت کو بیان کیا جا رہا ہے جیسا کہ رسو ل اللہﷺ نماز میں تھے اور جبریل علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے اور یہ خوشخبری دی کہ آپ کی امت میں سے جو بھی آپ پر درود پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمت بھیجے گا اور یہی حال اس شخص کے لیے ہے جو آپ پر سلام بھیجے گا۔ اور یہ بھی سنت ہے کہ سجدۂ شکر لمبا کیا جائے جیسا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے کیا تھا کہ صحابہ کو یہ شک پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں آپ فوت ہی نہ ہو گیے ہوں۔

تشریح: العربية

يبين الحديث الشريف مشروعية سجود الشكر عند تجدد النعم وسماع الأخبار السارة والمبشرات كما حصل مع النبي صلى الله عليه وسلم حيث كان في صلاة وجاءه جبريل -عليه السلام- فبشره بأن من صلى عليه من أمته صلى الله عليه وكذلك حال من سلم عليه، كما أنه من السنة الإطالة في سجود الشكر لفعله صلى الله عليه وسلم حيث إن الصحابة -رضوان الله عليهم- شكوا في أن يكون قد مات.

  • استحباب سجود الشكر عند تجدد نعمة.
  • استحباب إطالة السجود، شكرًا لله -تعالى-، واعترافًا بنعمه، وثناءً عليه، وسؤاله المزيد من فضله وجوده.
  • استبشر النبي -صلى الله عليه وسلم- بهذا الفضل لأمرين:الأول: أنَّ الله -تعالى- أعلى درجته، ورفع ذكره، وكثَّر أجره بكون المسلمين يصلون عليه -صلى الله عليه وسلم-، ويدعون له.الثاني: هذا الثواب العظيم لأمته حينما يصلون على نبيهم؛ فإنَّ الله -تعالى- من فضله وكرمه يصلي عشر مرات، على من صلَّى صلاة واحدة على نبيه -صلى الله عليه وسلم-.
  • الفضل العظيم والشرف الكبير لنبينا محمَّد -صلى الله عليه وسلم- عند ربه، وعِظم هذه المنزلة عنده.
  • فضل الصلاة على النبي -صلى الله عليه وسلم-، واستحباب الإكثار منها؛ ليحصل للعبد هذا الأجر، وليقوم بشيء من حق نبيه محمَّد -صلى الله عليه وسلم-.
  • الصلاة على النبي -صلى الله عليه وسلم- المشروعة هي الصيغة المعروفة بالأحاديث الصحيحة، والتي تؤدى كما كانت تؤدى زمن الصحابة وصدر الإسلام، لا ما كان يؤدى بطريقة مخالفة للثابت لما فيها من البدعة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید