حدیث

’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «‌أَلَا ‌أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟» ثَلَاثًا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ» وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: «أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ»، قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ.

ترجمہ

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟" یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی۔ لوگوں نے کہا : "اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔" آپ ﷺ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، لیکن سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور پھر فرمایا : "خبردار! جھوٹی بات کہنا"۔ آپ ﷺ اس بات کو اتنی مرتبہ دہراتے رہے کہ ہم نے کہا : کاش آپ ﷺ خاموش ہوجائیں‘‘۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں کو سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان تین گناہوں کا ذکر کیا : 1- اللہ کا شریک ٹھہرانا : شرک نام ہے کوئی بھی عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے کرنے اور غیراللہ کو الوہیت، ربوبیت اور اسماء و صفات میں اللہ کے برابر لا کھڑا کرنے کا۔ 2- ماں باپ کی نافرمانی : یعنی قول و فعل کے ذریعہ یا ان کی خدمت میں کوتاہی کرکے ان کو کسی طرح کی تکلیف دینا۔ 3- جھوٹ بولنا، جس میں جھوٹی گواہی دینا بھی شامل ہے: اس سے مراد ہر وہ گھڑی ہوئی اور جھوٹی بات ہے، جس کا مقصد کسی کا مال ہڑپنا یا کسی کو بے عزت کرنا وغیرہ ہو۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ بولنے سے بار بار خبردار کرکے یہ بتایا ہے کہ جھوٹ ایک بری چیز ہے اور سماج پر اس کے بڑے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ نے جھوٹ بولنے سے اتنی بار خبردار کیا کہ صحابہ نے آپ کی پریشانی کو دیکھ کر کہا کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔

فوائد

  • سب سے بڑا گناہ اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے، کیوں کہ اللہ نے اسے سب سے پہلا اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی تاکید اللہ تعالی کا یہ قول بھی کرتا ہے : "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے جو چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔"
  • والدین کے حقوق کی اہمیت، کیوں کہ اللہ تعالی نے ان کا حق اپنے حق کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔
  • گناہ کی دو قسمیں ہيں؛ صغیرہ گناہ اور کبیرہ گناہ۔ کبیرہ گناہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے، جس کی کوئی دنیوی سزا متعین ہو، جیسے حدود اور لعنت وغیرہ یا جس پر کوئی اخروی وعید سنائی گئی ہو، جیسے جہنم میں داخلے کی وعید۔ کبیرہ گناہوں میں سے بھی کچھ گناہوں کی حرمت دیگر کبیرہ گناہوں کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے۔ جب کہ صغیرہ گناہوں سے مراد کبیرہ گناہ کے علاوہ دیگر گناہ ہیں۔
تشریح: العربية

يُخبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أصحابَه عن أعظم الكبائر، فذَكرَ هذه الثلاث: 1. الإشراك بالله: وهو صَرْفُ أيِّ نوعٍ من أنواع العبادة لغير الله، وتسويةُ غيرِ الله بالله في ألوهيته وربوبيته وأسمائه وصفاته. 2. عقوق الوالدين: وهو كلُّ أذى للأبوين، قولًا كان أو فعلًا، وترك الإحسان إليهما. 3. قول الزور ومنه شهادة الزور: وهو كل قول مُزوَّر ومكذوب يراد به انتقاص مَن وقع عليه بأخذ ماله أو الاعتداء على عرضه أو نحو ذلك. وقد كَرَّر النبيُّ صلى الله عليه وسلم التحذيرَ من قول الزور تنبيهًا على استقباحِه وآثارِه السيئة على المجتمع، حتى قال الصحابة: ليته سكت؛ شَفقةً عليه، وكراهية لِما يُزعجه.

  • أعظم الذنوب الشركُ بالله؛ لأنه جعلَه صَدْرَ الكبائر وأكبرَها، ويؤكد هذا قوله تعالى {إن الله لا يَغْفِرُ أن يشرَكَ به وَيَغْفِرُ مَا دونَ ذلِكَ لِمَنْ يشَاء}.
  • عظم حقوق الوالدين، إذ قَرَنَ حقَّهما بحق الله تعالى.
  • الذنوب تنقسم إلى كبائر وصغائر، والكبيرة هي: كلُّ ذنب فيه عقوبة دنيوية، كالحدود واللعن، أو وعيد أُخروي، كالوعيد بدخول النار، وأن الكبائر دركات بعضها أغلظ من بعض في التحريم، وصغائر الذنوب هي ما سوى الكبائر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید