ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ»، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا.
ترجمہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اللہ عز و جل تمھیں اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے۔" عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم! جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے منع کرتے سنا ہے، کبھی باپ دادوں کی قسم نہیں کھائی۔ نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی کی قسم نقل کرتے ہوئے۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی نے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ لہذا جسے قسم کھانی ہو، وہ اللہ کی قسم کھائے۔ کسی اور کی نہیں۔ بعد ازاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جس دن سے انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، انھوں نے باپ دادوں کی قسم نہيں کھائی ہے۔ نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی دوسرے کے ذریعے غیراللہ کی کھائی ہوئی قسم کو نقل کرتے ہوئے۔
فوائد
- اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا حرام ہے۔ آپ نے یہاں باپ دادوں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں باپ دادوں کی قسم کھانا ایک عام بات تھی۔
- عربی لفظ "الحَلِف" کے معنی ہیں، کسی بات کی تاکید کے لیے اللہ، اس کے اسما یا صفات کی قسم کھانا۔
- عمر رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکامات کو فورا بجا لاتے، شرعی اسرار و رموز کو سمجھتے اور پرہیزگاری کی بہترین مثال پیش کرتے تھے۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ اللهَ تعالى يَنهى عن الحَلِف بالآباء، فمَن أراد الحلف فلا يحلف إلا بالله، ولا يحلف بغيره. ثم ذكر عُمَرُ بن الخطاب رضي الله عنه أنَّه لم يحلِفْ بها منذُ سَمِعَ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن ذلك، لا مُتعمِّدًا ولا ناقِلًا عن غيرِِه حَلِفَه بغيرِ الله.
- تحْريمُ الحلِف بغيرِ الله، وخصَّ الحلِف بِالآباء لأنَّه من عاداتِ الجَاهِلِيةِ.
- الحَلِف: هو القَسَم بالله أو بأسماء الله أو بصفات الله على أمر من الأمور لتأكيده.
- فَضِيلةُ عُمَر رضي الله عنه بِسُرْعَةِ امْتِثَالِه وَحُسْنِ فَهْمِهِ وتَوَرُّعِه.