حدیث

نبی کریم ﷺ نے ایک ڈھال (کی چوری) پر ہاتھ کاٹا تھا، جس کی قیمت تین درہم تھی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عبدُ الله بنُ عمر رضي اللهُ عنهما «أَنَّ النَّبِي صلى الله عليه وسلم قَطَع فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ -وَفِي لَفْظٍ: ثَمَنُهُ- ثَلاثَةُ دَرَاهِمَ».

ترجمہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے ایک ڈھال (کی چوری) پر ہاتھ کاٹا تھا، جس کی قیمت تین درہم تھی۔ بعض روایتوں میں"قيمته" کی جگہ"ثمنه" کا لفظ آیا ہے۔

تشریح

اللہ عز و جل نے لوگوں کی جان، آبرو اور مال کو ان تمام ذرائع سے تحفظ فراہم کیا ہے، جو فسادی اور سرکش افراد کو(ان کی شر انگیزیوں سے) باز رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس چور کی سزا جو مخفی طریقے سے مال کو اس کے محفوظ مقام سے لے اڑتا ہے، اس ہاتھ کو کاٹنا رکھی ہے جو اس چرائے گئے مال کو اٹھاتا ہے؛ تا کہ ہاتھ کاٹنا اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور آئندہ وہ اور دیگر لوگ (حصول مال کے) ان گھٹیا طریقوں سے باز رہیں اور شرعی اور باعزت طریقوں سے مال کمائیں، جس کے نتیجے میں کام کاج کو فروغ ملے، منافع کا حصول ہو، یہ عالم تعمیر و ترقی کی جانب گامزن ہوجائے اور لوگ باعزت زندگی گزاریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت، مال کی اس اقل ترین مقدار کا تعین فرما دیا، جس کے چرانے پر ہاتھ کو کاٹا جائے گا، جو کہ تین درھم یعنی سونے سے بنے دینار کے ایک چوتھائی کے مساوی ہے، تا کہ مال و جان محفوظ رہیں، امن کا دور دورہ ہو، دل پر سکون ہوں اور حصول رزق اور سرمایہ کاری کی غرض سے لوگ اپنا مال (بلا خوف و خطر) لگائیں۔ اور ایک چوتھائی دینار ایک گرام اور ربع کے چوتھائی گرام کے مساوی ہوتا ہے؛ کیونکہ ایک دینار 4.25 گرام کا ہوتا ہے۔

تشریح: العربية

أمَّنَ الله عز وجل دماء الناس وأعراضهم وأموالهم، بكل ما يكفل ردع المفسدين المعتدين؛ لذلك جعل عقوبة السارق (الذي أخذ المال من حرزه على وجه الاختفاء) قطع العضو الذي تناول به المال المسروق، ليكفر القطع ذنبه وليرتدع هو وغيره عن الطرق الدنيئة، وينصرفوا إلى اكتساب المال من الطرق الشرعية الكريمة، فيكثر العمل، وتستخرج الثمار فيعمر الكون وتعز النفوس. ومن حكمته تعالى أن جعل النصاب الذي تقطع فيه اليد، ما يعادل ثلاثة دراهم أي ربع دينار من الذهب، حماية للأموال، وصيانة للحياة، ليستتب الأمن، وتطمئن النفوس، وينشر الناس أموالهم للكسب والاستثمار. ويعادل ذلك جراما وربع الربع من الجرامات؛ لأن الدينار 4.25 جم.

  • قَطْعُ يَدُ السَّارِقِ، والمرَادُ بالسَّارِق [الذِي يَأْخُذُ المالَ من حِرْزِه عَلَى وَجْهِ الاخْتِفَاءِ].
  • أَنَّ نصاب القطع ربع دينار أو ما قيمته ثّلاثَة دّرَاهِم، وهو مذهب الجمهور.
  • لهذا الحكم السامي، حكمته التشريعية العظمى، فالحدود كلها -على وجه العموم- رحمة ونعمة، وكفارة للمعتدي.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید