حدیث

اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لی ہے؛ اگر اس کی وفات ہوگئی، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اگر وہ واپس آیا، تو ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس ہوگا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «انْتَدَبَ الله (ولمسلم: تَضَمَّنَ الله) لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لا يُخْرِجُهُ إلاَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِي، وإيمان بي، وتصديق برسلي فهو عَلَيَّ ضامن: أَنْ أُدْخِلَهُ الجنة، أو أرجعه إلى مسكنه الذي خرج منه، نائلًا ما نال من أجر أو غنيمة». ولمسلم: «مثل المجاهد في سبيل الله -والله أعلم بمن جاهد في سبيله- كَمَثَلِ الصَّائِمِ القائم، وَتَوَكَّلَ الله لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ إنْ تَوَفَّاهُ: أن يدخله الجنة، أو يرجعه سالما مع أجر أو غنيمة».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی ہے (اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اللہ نے اس شخص کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے)، جو اس کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکلے۔ (اللہ فرماتا ہے:) اگر اس کا یہ نکلنا محض میری راہ میں جہاد کے لیے اور مجھ پر ایمان اور میرے انبیا کی تصدیق کے جذبے سے ہو، تو میں اسے اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ یا تو اسے جنت میں داخل کردوں گا، یا ثواب یا غنیمت کے ساتھ اس کے گھر میں واپس پہنچا دوں گا، جس سے وہ نکلا تھا“۔ مسلم کی روایت میں ہے: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال -اور اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے- قیام کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے؛ اس کی وفات ہوگئی، تو جنت میں داخل کرے گا۔ ورنہ صحیح سالم ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا“۔

تشریح

اس حدیث میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اللہ کی طرف سے اس ضمانت کا بیان ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا محض اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے خالص جہاد کے لئے نکلتا ہے، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کسی ایک یا دو چیزوں کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر وہ شہید کردیا گیا، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرنے کا ضامن ہے اورباقی بچ گیا تو اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ گھر واپس پہنچائے گا۔ یعنی یا تو ثواب کے ساتھ بغیر غنیمت کے یا ثواب اور غنیمت دونوں کے ساتھ۔ رہی دوسری روایت، جسے صاحبِ 'عمدہ' نے مسلم کی طرف منسوب کیا ہے، حالاں کہ وہ متفق علیہ ہے، اس میں بیان کیا گيا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی فضیلت یعنی ایسا عمل جو جہاد کے قائم مقام ہو، انسانی طاقت سے باہر کی چیز ہے؛ کیوں کہ وہ عمل لگاتار نماز، روزہ اور قیام اللیل میں لگے رہنا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث ضمان من الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه إلا جهاد في سبيله مؤمناً مخلصاً أنه ضامن على الله واحدًا من ثلاثة أو اثنتين منها فإن قتل فهو ضامن على الله أن يدخله الجنة وإن بقي فقد تضمن الله أن يرجعه إلى مسكنه بما نال من أجر أو غنيمة أي من أجر بدون غنيمة أو يجمع الله له بين الغنيمة والأجر. أما الرواية الثانية التي عزاها صاحب العمدة إلى مسلم وهي متفق عليها وفيها أن فضيلة الجهاد في سبيل الله أي التي تقوم مقام الجهاد أمر لا يستطيعه البشر وذلك كالآتي: أن يكون بدلاً من الخروج يدخل في مصلاه فيواصل الصلاة والصيام والقيام ولهذا قال صلى الله عليه وسلم لا تستطيعونه.

  • جود الله -تعالى-؛ إذ ألزم نفسه بهذا الجزاء الكبير للمجاهدين.
  • فضل الجهاد في سبيل الله، إذ تحقق ربحه العظيم، وهذا بنيل الجزاء الأخروي سواء حصل ذلك بالشهادة أو حصول الثواب، أو الجزاء الدنيوي بتحصيل الغنيمة.
  • يؤخذ من قوله مثل المجاهد في سبيل الله أن ثواب المجاهد كثواب الصائم الذي لا يفطر والقائم الذي لا يفتر أي الذي لا يفتر عن الصلاة وفي هذا من الفضل ما لا يستطاع وصفه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید