ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «بعث رسولُ الله صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إلَى نَجْدٍ فخرجَت فِيهَا، فَأَصَبْنَا إبِلاً وَغَنَماً، فبلغتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيراً، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم بَعِيراً بَعِيراً».
ترجمہ
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس کے ساتھ میں بھی گیا۔ مالِ غنیمت کے طور پر بہت سے اونٹ اور بھیڑ بکریاں ہمارے ہاتھ لگیں۔(مال غنیمت میں) ہمارے حصے بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد دیا۔
تشریح
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک سریہ کی شکل میں انہیں نجد کی طرف بھیجا اور ان کے ہاتھ اونٹوں اور بھیڑ بکریوں پر مشتمل بہت سارا مالِ غنیمت آیا۔ ہر ایک کے حصے میں بارہ اونٹ آئے اور نبی ﷺ نے ان میں سے ہر ایک کو ان کے حصوں میں آنے والے اونٹوں کی تعداد سے ایک ایک اونٹ زائد دیا۔
تشریح: العربية
يخبر عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثهم في سرية إلى نجد فأصابوا غنائم كثيرة من إبل وغنم، فنال كل واحد منهم اثني عشر بعيراً، وأعطاهم زيادة على ذلك بعيراً لكل واحد فوق عدد سهامهم.
- بعث السرايا لإضعاف العدو، ومفاجأته إذا رأى الإمام ذلك مصلحة.
- حل الغنيمة للغازين الغانمين، وهذا مما خصت به هذه الأمة المحمدية.
- جواز تنفيل الغانمين زيادة على أسهمهم، إذا رأى الإمام ذلك مصلحة، ويكون النفل من الخمس، أو من أصل الغنيمة.