ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشةُ -رضي اللهُ عنها- مرفوعًا: «تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِداً».
ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت کی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا“۔
تشریح
اللہ عز و جل نے لوگوں کی جان، آبرو اور مال کو ان تمام ذرائع سے تحفظ فراہم کیا ہے، جو فسادی اور سرکش افراد کو (ان کی شر انگیزیوں سے) باز رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ نے چور کی سزا، جو مخفی طریقے سے مال کو اس کے محفوظ مقام سے لے اڑتا ہے، اس عضو کا کاٹنا متعین کی ہے، جس کے ذریعے وہ چرایا ہوا مال اٹھاتا ہے؛ تاکہ ہاتھ کاٹنا اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور آئندہ وہ اور دیگر لوگ (حصول مال کے) ان گھٹیا طریقوں سے باز رہیں اور شرعی اور باعزت طریقوں سے مال کمائیں، جس کے نتیجے میں کام کاج کو فروغ ملے، منافع کا حصول ہو، یہ عالم تعمیر و ترقی کی طرف بڑھے اور لوگ باعزت زندگی گزاریں۔ اللہ نے اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت مال کی اس کم ترین مقدار کا تعین فرما دیا، جس کے چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا، جو کہ سونے سے بنے دینار کے ایک چوتھائی کے مساوی ہے؛ تا کہ جان و مال محفوظ رہیں، امن کا دور دورہ ہو، دل پر سکون ہوں اور حصول رزق اور سرمایہ کاری کی غرض سے لوگ اپنا مال (بلا خوف و خطر) لگائیں۔
تشریح: العربية
أمَّن الله عز وجل دماء الناس وأعراضهم وأموالهم، بكل ما يكفل ردع المفسدين المعتدين. فجعل عقوبة السارق -الذي أخذ المال من حرزه على وجه الاختفاء- قطع العضو الذي تناول به المال المسروق؛ ليكفر القطع ذنبه، وليرتدع هو وغيره عن الطرق الدنيئة، وينصرفوا إلى اكتساب المال من الطرق الشرعية الكريمة؛ فيكثر العمل، وتستخرج الثمار؛ فيعمر الكون، وتعز النفوس. ومن حكمته تعالى أن جعل المقدار الأدنى الذي تقطع بسرقته اليد، ما يعادل ربع دينار من الذهب؛ حماية للأموال، وصيانة للحياة؛ ليستتب الأمن، وتطمئن النفوس، وينشر الناس أموالهم للكسب والاستثمار.
- أن نصاب القطع ربع دينار من الذهب، أو ما قيمته ثلاثة دراهم من الفضة.
- الحديث رد على الذين يرون أن القطع ليد السارق في الكثير والقليل من المال.
- قطع يد السارق -الذي يأخذ المال من حرزه على وجه الاختفاء- وليس منه الغاصب والمنتهب والمختلس.
- أنَّ الحَدَّ كَفَّارَةٌ للمعصِية التي أُقِيمَ الحَدُّ لَها، وَهُو إجماع.
- للعلماء شروط في قطع يد السارق، وأهمها أن يكون المسروق من حرز مثله، والحرز يختلف باختلاف الأموال والبلدان والحكام.
- لهذا الحكم السامي، حكمته التشريعية العظمى، فالحدود كلها رحمة ونعمة.