حدیث

مناسب انداز سے اس کے مال میں سے اتنا لے لو، جو تمھیں اور تمھاری اولاد کے لیے کافی ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «دخلت هند بنت عُتْبَةَ- امرأَة أَبِي سفيان- على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إنَّ أَبَا سُفْيَان رَجُلٌ شَحِيحٌ، لا يُعْطِيني من النفقة ما يكفيني ويكفي بَنِيَّ، إلاَّ ما أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ جُنَاحٍ؟ فَقَالَ رسول الله: خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي بَنِيكِ».

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ھند بنت عُتبۃ رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہے، وہ مجھے اتنا نفقہ نہیں دیتا، جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو، تاہم میں اس کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ لے لیتی ہوں۔ کیا اس میں میرے اوپر کوئی گناہ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مناسب انداز سے اس کے مال میں سے اتنا لے لو، جو تمھارے اور تمھاری اولاد کے لیے کافی ہو“۔

تشریح

ھند بنت عتبہ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ مانگا کہ ان کا شوہر انھیں اتنا خرچ نہیں دیتا، جو ان کے اور ان کی اولاد کے لیے کافی ہو، تو کیا وہ اپنے شوہر ابو سفیان کے مال سے ان کی اجازت کے بغیر لے سکتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار اچھے طریقے سے لینے کے جواز کا فتویٰ دیا، جو ان کے لیے کافی ہو۔ یعنی زیادتی اور تعدی نہ ہو۔

تشریح: العربية

اسْتَفْتَت هند بِنْتُ عُتْبَة رسول الله -صلَّى الله عليه وسلم- أَنَّ زوجها لا يعطيها ما يكفِيها هي وأَبناءها من النفقة، فهل لها أن تأخذ من مال زوجها أَبي سُفيان بغير علمه؟ فأفتاها بجواز ذلك إِذا أَخذت قَدْرَ الكفاية بالمعروف، أي دون زيادة وتعدي.

  • وجوب النفقةِ على الزَّوجة والْأَولَاد الفقراء والصّغار.
  • أَنَّ النَّفَقَةَ تُقَدَّرُ بِكِفَايَة الْمُنْفَقِ عليه وحال المنفِق معًا.
  • جواز سماع كلَام الْأَجنبية للحاجة.
  • جواز ذكر الانسان بما يكره للشَّكْوى والْفُتْيا، إذا لم يقصد الغيبة.
  • اعتماد العُرْف في الْأمُور التي ليس فيها تحدِيدٌ شرعي، فقد جعل لها مِن النَّفَقَة الكِفَايَة، وهذا راجعٌ إلى مَا كَان مُتَعَارَفَاً في نفَقة مِثْلها وأوْلَادها.
  • أن من ظفر بحقه من عند شخص أنكره عليه له أن يأخذ حقه من ذلك الشخص إذا قدر ولم يترتب على ذلك مفسدة وكان ذلك ظاهراً كدين ونفقة ونحوها.
  • جواز خروج الزوجة من بيتها لحاجتها من محاكمة واستفتاء وغيرهما، إذا أذن لها زوجها في ذلك، أو علمت رضاه به.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید