حدیث

”جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے، صرف اسی کا لڑنا اللہ کے راستے میں ہے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي مُوسَى رضي الله عنه قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، أَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ».

ترجمہ

ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کی نمائش کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص مجرد حمیت کی بنا پر لڑتا ہے اور ایک شخص محض دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کون اللہ کی راہ میں ہے؟ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے، صرف اسی کا لڑنا اللہ کے راستے میں ہے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جنگ کرنے والوں کے الگ الگ مقاصد کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایک بہادری دکھانے کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص حمیت کی خاطر جنگ کرتا ہے اور ایک شخص نام و نمود کی خاطر جنگ کرتا ہے، ان میں سے کس کی جنگ اللہ کے راستے میں ہے؟ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والا وہ ہے، جس نے اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جنگ کی۔

فوائد

  • اعمال کے درست اور نادرست ہونے کا دار و مدار نیت اور اخلاص و للہیت پر ہے۔
  • جب جہاد کا مقصد اللہ کے کلمے کی سربلندی ہو اور کوئی دوسرا جائز مقصد، جیسے مال غنیمت کا حصول وغیرہ اس سے جڑ جائے، تو اس سے اصل نیت پر کوئی حرف نہيں آئے گا۔
  • وطن اور عزت و آبرو کی حفاظت کی خاطر دشمنوں سے لڑنا بھی اللہ کے راستے میں جہاد میں شامل ہے۔
  • مجاہدین کے بارے میں وارد فضیلت کا مستحق وہی شخص ہے، جو اللہ کے کلمہ کى سربلندی کی خاطر جنگ کرے۔
تشریح: العربية

سُئلَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن اختلاف مقاصد المقاتلين؛ مَن قاتَل شجاعة أو حَميَّة أو ليرى مكانه من الناس أو غير ذلك، أيُّها في سبيل الله؟ فأخبرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أن المقاتل في سبيل الله هو: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا.

  • الأصل في صلاح الأعمال وفسادها النية وإخلاص العمل لله.
  • إذا كان القصد من الجهاد إعلاء كلمة الله، وانضم إليه قصد آخر مشروع كالحصول على المغنم، فإنه لا يضر أصلَ نيته.
  • مدافعة الأعداء عن الأوطان والحرمات من القتال في سبيل الله.
  • الفضل الوارد في المجاهدين يختص بمن قاتل لتكون كلمة الله تعالى هي العليا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید