حدیث

عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رضي الله عنهم ، شَكَوَا الْقَمْلَ إلَى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ لَهُمَا فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ وَرَأَيْته عَلَيْهِمَا.

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے انھیں ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دے دی اور میں نے انھیں ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا۔

تشریح

دینِ اسلام کی فراہم کردہ آسانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ کسی ایسی علت کی بنا پر جس کی وجہ سے رخصت (چھوٹ) ضروری ہو جائے یہ حرام اشیاء کی بھی رخصت دے دیتا ہے۔ شارع علیہ السلام نے ریشم کے مردوں پر حرام ہونے کے باوجود زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ریشم کی قمیصیں پہننے کی رخصت دی کیونکہ ریشم جوؤں کو دور کرتا ہے اس لیے کہ قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہی ایسے ہے کہ اس میں جوؤں کا توڑ اور خارش کا علاج ہے۔ یہ رخصت ہر اُس شخص کو شامل ہے، جس کی حالت ان صحابہ جیسی ہو۔

تشریح: العربية

من يسر الدين الإسلامي أنه يرخص في الشيء المحرم لعلة توجب الترخيص وقد رخص الشارع صلى الله عليه وسلم للزبير وعبدالرحمن رضي الله عنهما في لبس قمص الحرير مع كونه محرَّمًا على الرجال لكونه يدفع القمل بما جعل الله سبحانه وتعالى فيه من الطبيعة المنافية لذلك وكذلك فيه دواء للحكة، وكذلك كل من كان مثلهما.

  • يؤخذ من قوله: [فرخص] ما تقدم من تحريم الحرير على الذكور.
  • جواز لبسه للحاجة، كالتداوى به عن الحكَّة أو القمل، وكذلك في الجهاد للتعاظم على الكفار، وإظهار الفخر والعزة والقوة أمامهم، لما فيه من مصلحة توهينهم، فيكون مستثنى مما تقدم من التحريم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید