ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَنَسٍ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا.
ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔
تشریح
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عیدالاضحی کے دن سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے ذبح کیے اور فرمایا: اللہ کے نام سے ذبح کر رہا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ ذبح کرتے وقت آپ نے اپنا پاؤں مینڈھے کی گردن پر رکھ دیا۔
فوائد
- قربانی کرنے کى مشروعیت۔ اور اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع بھی ہے۔
- بہتر یہ ہے کہ قربانی کا جانور اسی طرح کا ہو، جس طرح کا جانور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ذبح کیا۔ کیوں کہ یہ دیکھنے میں اچھا ہوتا ہے، اس میں چربی ہوا کرتی ہے اور اس کا گوشت بڑا لذیذ ہوا کرتا ہے۔
- نووی کہتے ہيں: اس حدیث کی روشنی میں اپنی قربانی کا جانور کسی اور سے ذبح کروانے کے بجائے خود اپنے ہی ہاتھ سے ذبح کرنا مستحب ہے۔ البتہ کوئی عذر ہو، تو بات الگ ہے۔ لیکن اس وقت بھی خود موجود رہنا چاہیے۔ لیکن بلا اختلاف کسی دوسرے مسلمان سے ذبح کرانا بھی جائز ہے۔
- ابن حجر کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بسم اللہ کہنے کے ساتھ ساتھ اللہ اکبر کہنا اور جانور کی گردن کے دائيں حصے پر اپنا پاؤں رکھنا مستحب ہے۔ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جانور کو بائيں پہلو کے بل لٹاکر اس کے دائيں پہلو پر پاؤں رکھ دیا جائے گا، تاکہ ذبح کرنے والے کو دائيں ہاتھ سے چھری پکڑنے اور بائيں ہاتھ سے گردن کو پکڑے رہنے میں آسانی ہو۔
- سینگ والے جانور کی قربانی مستحب ہے۔ بغیر سینگ والے جانور کی بھی قربانی جائز ہے۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ أنسٌ رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم ذَبَحَ بيده يومَ عيدِ الأضحى مِن ذُكور الضَّأْنِ كَبشَيْنِ ذات قرون أبيضين يخالطهما السواد، وقال: باسم الله والله أكبر، ووضع رجلَه على عُنقِها.
- مشروعية الأضحية، وقد أجمع عليها المسلمون.
- الأفضل أن تكون الأضحية من هذا النوع الذي ضحَّى به النبي صلى الله عليه وسلم؛ لِحُسْن منظرِه ولكون شحمه ولحمه أطيب.
- قال النووي: فيه أنه يستحب أن يتولَّى الإنسانُ ذبحَ أضحيتِه بنفسِه، ولا يُوكِّل في ذبحِها إلا لعذر، وحينئذ يُستحب أن يَشْهَدَ ذَبْحَها، وإن استناب فيها مسلمًا جاز بلا خلاف.
- قال ابن حجر: وفيه استحباب التكبير مع التسمية عند الذبح واستحباب وضع الرِّجْل على صَفْحَةِ عُنُقِ الأضحية الأيمن، واتفقوا على أن إضجاعها يكون على الجانب الأيسر فيضع رجله على الجانب الأيمن ليكون أسهل على الذابح في أخذ السكين باليمين وإمساك رأسها بيده اليسار.
- استحباب الأضحية بالأقرن ويجوز بغيره.