ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم يوم أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ؛ فَلَمْ يُجِزْنِي، وعرضت عليه يوم الخندق، وأنا ابنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَنِي».
ترجمہ
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ”غزوہ احد کے موقع پر مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔ غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ میں پندرہ سال کا تھا مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت دے دی“۔
تشریح
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ احد کے موقع پر جنگ میں جانے کے لیے انھیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جیسا کہ فوجیوں کو امیر لشکر کے سامنے جائزے کے لحے پیش کیا جاتا ہے۔ غزوۂ احد ہجرت کے تیسرے سال ہوا تھا جب کہ ان کی عمر چودہ سال تھی۔ نبی ﷺ نے انہیں جنگ میں جانے سے روک دیا کیونکہ وہ چھوٹے تھے۔ غزوہ خندق جو ہجرت کے پانچویں سال پیش آیا اس میں جب انھیں نبی ﷺ کے سامنے پیش گیا تو وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے چنانچہ نبی ﷺ نے انھیں لڑائی میں شرکت کی اجازت دے دی۔ شاید کہ وہ جنگ احد کے موقع پر چودھویں سال کے آغاز میں تھے اور جنگ خندق کے موقع پر پندہویں سال کے آخر میں تھے۔
تشریح: العربية
أخبر عبد الله بن عمر رضي الله عنه أنه عُرض للذهاب إلى الغزو على رسول الله صلى الله عليه وسلم -من باب عرض العسكر على الأمير- في وقعة أحد، وكانت في السنة الثالثة من الهجرة، وعمره أربع عشرة سنة، فرده النبي صلى الله عليه وسلم من الذهاب إلى الحرب؛ لصغره، ثم عرض عليه في عام الخندق وكانت في السنة الخامسة، وعمره خمس عشرة سنة، فأجازه النبي صلى الله عليه وسلم في المقاتلة، فلعله كان يوم أحد في أول الرابعة عشر، ويوم الخندق في آخر الخامسة عشر.
- ينبغي للقائد والأمير، تفقُّدُ رجال جيشه وسلاحهم؛ لأنه أكمل للأهبة والاستعداد، وهو من الحزم المطلوب في القائد، فيرد من لا يصلح من الرجال، كالضعفاء والمرجفين، وما لا يصلح من أدوات القتال، كالأسلحة الفاسدة، ويقبل الصالح من ذلك.
- البلوغ يحصل في تمام الخامسة عشر، أو بإنزال المَني، أو بنبات عانته، وهو الشعر الخشن حول القبل، هذا للذكر، وتزيد الأنثى بالحيض، فهو من علامات البلوغ الخاصة بها.