حدیث

اللہ کی راہ میں صبح یا شام نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن أبُي أَيُوب الأنصَارِيّ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ الله، أَوْ رَوْحَةٌ: خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ». عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ الله، أَوْ رَوْحَةٌ: خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا».

ترجمہ

ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”اللہ کی راہ میں صبح یا شام نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے“۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے صبح یا شام چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔

تشریح

ان دونوں احادیث میں جہاد فی سبیل اللہ کی فضلیت کا بیان ہے؛ اگرچہ اس کی مدت بہت کم، یعنی ایک صبح یا ایک شام کے لیے ہی ہو۔ پھر اندازہ کیجیے کہ لمبا جہاد، جس میں دشمنوں کے سامنے ثابت قدم رہنا پڑتا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، اس کی کیا فضیلت ہو گی؟ ”سبیل اللہ“ سے در اصل کفار سے ہاتھ کے ذریعہ جہاد ہی مراد ہے۔ یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ شرعی علم کا حصول جہاد فی سبیل اللہ کی ایک بہت بڑی قسم ہے۔ حق کو غالب کرنا اور زندیق و ملحد لوگوں اور مغربی عیسائی مبلغین کے دلائل کا رد کرنا، جو اسلام کے خلاف برسرپیکار رہتے ہیں اور اسے مٹانے کی ناپاک کوششیں کرتے ہیں، در اصل یہ جہاد فی سبیل اللہ کی سب سے بڑی قسم ہے۔ جہاد سے مقصود اسلام کا غلبہ اور اس کی نصرت ہے۔ چنانچہ اس طرح کے لوگوں کا سدباب کرنا ایک عظیم جہاد ہے۔ اے اللہ! مسلمانوں کو توفیق عطا فرما کہ وہ اپنے دین کی نصرت کریں اور تیرے حکم کو سربلند کریں۔ بے شک تو بہت قریب اور دعا قبول کرنے والا ہے۔

تشریح: العربية

هذان الحديثان يظهران فضل الجهاد في سبيل الله، ولو كان يسيرًا بقدر الغدوة أو الروحة، فكيف بالكثير الذي فيه مصابرة للأعداء ومقارعة لهم؟، وهذا هو الأصل في المراد بسبيل الله: أنه الجهاد باليد للكفار. وينبغي أن يعلم أن طلب العلم الشَّرعي نوع عظيم من الجهاد في سبيل الله، وأن الانتصار للحق، ودحض حجج الزنادقة والملحدين والغربيين المبشرين الذين يحاربون الإسلام، ويريدون القضاء عليه، هو من أعظم الجهاد في سبيل الله. فالقصد من الجهاد، إظهار الإسلام ونصره، فكَبتُ هؤلاء، من الجهاد الكبير العظيم، اللهم وفق المسلمين لنصر دينهم، وإعلاء كلمتك، إنك قريب مجيب.

  • أن تلك الغدوة أو الروحة التي يخرجها العبد في سبيل الله بأن يكون مخلصاً لله، وعمله موافقاً لما شرع الله خير مما طلعت عليه الشمس أو غربت، وهذا تفضيل لتلك الغدوة أو الروحة على جميع متاع الدنيا، من أموال وقصور ومزارع وغير ذلك من متاع الدنيا ونسائها، فسبحان من لا يُحصر فضله ولا يعلم مداه إلا هو!.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید