ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: «دخلت أنا وخالد بن الوليد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بيت ميمونة، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إلَيْهِ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ، فقال بعض النِّسْوَةِ في بيت ميمونة: أخبروا رسول الله بما يريد أن يأكل، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده، فقلت: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قال خالد: فَاجْتَرَرْتُهُ، فَأَكَلْتُهُ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ».
ترجمہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا، تو میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کو اس چیز کے بارے میں بتادو، جسے آپ کھانا چاہتے ہیں۔ (لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! یہ گوہ ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں! لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے“۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔
تشریح
ام حفید بنت حارث ، جو ھزیلہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ہیں، اپنی بہن میمونہ رضی اللہ عنہا سے ملنے آئیں۔ ان کے ساتھ کچھ ہدایا وتحائف بھی تھے۔ ہدایا کے ضمن میں ایک گوہ بھی تھا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجوں نے اسے دوپہر کے کہانے میں پیش کیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میمونہ رضی اللہ عنہ کی بہن کے لڑکے تھے؛ اس طرح وہ ان کی خالہ تھیں۔ عبد اللہ بن عباس اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی یہ خالہ تھیں۔ جب دسترخوان بچھایا گیا، تو نبی ﷺ نے گوشت لینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا؛ تاکہ گوشت تناول فرمائیں۔ اتنے میں گھر میں موجود کسی عورت نے کہا: نبی کریم ﷺ کو اس چیز کے بارے میں بتا دو، جو آپ کھانا چاہتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول ! یہ گوہ کا گوشت ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا اور نہیں کھایا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’نہیں! لیکن یہ میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا؛ اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے‘۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا اور نبی ﷺ دیکھ رہے تھے۔
تشریح: العربية
جَاءَت أُمُّ حَفِيد بِنتُ الحارِث، وهِي هُزَيلَة بنت الحارث جاءَت إلى أُخْتِهَا مَيْمُونَة زَائِرَةً لَها ومَعها شَيءٌ من الهدَايا وكان من ضِمْن الهدَايا ضَبٌّ، وقَدْ حَضَرَ ذَلِكَ الْغَدَاء أَبْنَاءُ أَخوَات ميمونة، فخالد بن الوليد هُو ابن أُخْتِها؛ ميمُونة خَالَتُه، وعبدالله بن عباس والفضل بن عباس هي خالتُهما أيضاً. ولما وُضِعَ الغَدَاءُ ومَدَّ النبي صلى الله عليه وسلم يَدَهُ إلى اللحْمِ لِيَأْكُل منْه قالت نِسْوَةٌ ممن في البيت أخْبِرُوا رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم بما يريد أنْ يَأْكُل، فقِيلَ لَه: إنَّه لَحمُ ضب فرفع يدَه ولم يأكل فقال له خالد: أحرامٌ هو يا رسول الله؟ قَال: لا ولكنه لم يكُن بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُني أعافُهُ، أي: أتقذر منه قال خالد: فاجتررته فأكلته والنبي صلى الله عليه وسلم ينظر.
- جواز أكل الضب.
- أن الكراهة الطبيعية من النبي -صلى الله عليه وسلم- للشيء لا تحرمه؛ لأن هذا شيء ليس له تعلق بالشرع، ومرده النفوس والطباع.
- حُسنُ خُلُقِ النبي -صلى الله عليه وسلم- إذ لم يعب الطعام، وهذه عادته الكريمة، إن طاب له الطعام أكل منه، وإلا تركه من غير عيبه.
- أن النفس وما اعتادته، فلا ينبغي إكراهها علَى أكل ما لا تشتهيه وما لا تستطيبه، فإن الذي لا ترغبه لا يكون مريئا، فيخل بالصحة.