ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن رَافِع بْن خَدِيج رضي الله عنه قال: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ فَأَصَابُوا إبِلاً وَغَنَماً، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ، فَعَجِلُوا وَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنْ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَأَهْوَى رَجُلٌ مِنْهُمْ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ الله، فَقَالَ: إنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا، قُلْتُ: يَا رَسُولُ الله، إنَّا لاقُو الْعَدُوِّ غَداً، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدىً، أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ قَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ الله عَلَيْهِ، فَكُلُوهُ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفْرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفْرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ».
ترجمہ
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مقام ذوالحلیفہ میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ کیا۔ لوگ بھوکے تھے۔ ادھر غنیمت میں ہمیں اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ نبی کریمﷺ لشکر کے پچھلے حصے میں تھے۔ لوگوں نے ( بھوک کے مارے) جلد بازی سے کام لیا، جانور ذبح کیے اور ہانڈیاں چڑھادیں۔ بعد میں نبی کریم ﷺ کے حکم سے ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا۔ پھر آپ (ﷺ) نے غنیمت کی تقسیم شروع کی، دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ اتفاق سے مال غنیمت کا ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ لوگ اسے پکڑنے کے لیے دوڑے، لیکن اونٹ نے سب کو تھکادیا ۔ آخر ایک صحابی (خود رافع رضی اللہ عنہ) نے اسے تیرمارا ۔ اللہ کے حکم سے اونٹ جہاں تھا، وہیں رہ گیا۔ اس پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان ( پالتو) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر ان میں سے کوئی قابو میں نہ آئے، تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو“۔ میں ( رافع رضی اللہ عنہ ) نے خدمت نبوی میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کل ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہو سکتی ہے۔ ادھر ہمارے پاس چھری بھی نہیں ہے، توکیا ہم بانس کی کھپچیوں سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز خون بہادے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو، تو اس کا گوشت کھاؤ۔ البتہ وہ چیز (جس سے ذبح کیا گیا ہو) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیے۔ میں تمھیں اس کی وجہ بھی بیان کردیتا ہوں؛ دانت تو اس لیے نہیں کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھری ہیں“۔
تشریح
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں ایک جگہ پر تھے، جیسے ذوالحلیفہ کہا جاتا ہے۔ ان کے پاس بہت سارے جانور تھے۔ انھوں نے ان کی تقسیم کا انتظار کیے بغیر ،تقسیم سے پہلے ہی ان کو ذبح کر دیا۔ رسول اللہﷺ پیچھے تھے، جب پہنچے تو لوگوں نے ہانڈیاں چڑھا دی تھیں۔ آپ ہانڈیوں کے پاس جاکر انھیں انڈیل دیا اور مٹی ڈال دی۔ نیز فرمایا: لوٹ مار کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں ہے! پھر آپﷺ نے مال غنیمت تقسیم کیا اور ایک اونٹ کے برابر دس بکریاں مقرر کیں۔ پھر لوگوں نے اپنے اپنے حصے کے جانور ذبح کیے۔ ان جانوروں میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا اور گھوڑوں کی قلت کی وجہ سے وہ اسے قابو میں نہ کر سکے۔ ایک آدمی نے اسے تیر مارا اور اللہ کے حکم سے وہ وہی رک گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان ( پالتو ) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی جانور قابو میں نہ آئے، تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ پھر رسول اللہﷺ سے یہ پوچھا گیا کہ ذبح کس طریقے سے کیا جائے؟ تو ان کو بتایا کہ ہر وہ چیز جس سے خون بہنا شروع ہو جائے اور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو، اس کا کھانا جائز ہے۔ جب کہ ناخن چاہے وہ انسانی ہاتھ کے ساتھ ہو یا الگ، اس سے ذبح کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ یہ کافر وں کی چھری ہے اور دانت سے ذبح کرنا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ وہ ہڈی ہے۔
تشریح: العربية
يخبر رافع بن خديج رضي الله عنهما أنهم كانوا في غزوة من الغزوات مع النبي صلى الله عليه وسلم بمكان يقال له: ذو الحليفة، وأنهم أصابوا نعماً كثيرة، فذبحوا من تلك النعم قبل قسمته ولم ينتظروا القسمة، وكان النبي صلى الله عليه وسلم متأخراً فأتى إليهم وقد نصبوا القدور، فعمد إلى القدور فكفأها ورملها، أي: حشاها بالتراب، وقال: إن النهبة ليست بأحل من الميتة، ثم قسم فعدل البعير بعشر من الغنم، وحينئذ ذبح كل منهم مما أصاب، أي: من نصيبه الخاص به، ففر بعير منها ولم يقدروا عليه؛ لقلة الخيل، ورماه رجل بسهم فحبسه الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : إن لهذه البهائم أوابد كأوابد الوحش، فما ند عليكم منها فاصنعوا به هكذا. ثم سألوا النبي صلى الله عليه وسلم عن الذبح بأي وسيلة، فأخبرهم أن كل ما يسيل الدم، واقترن مع الذبح التسمية، فهو مما يجوز الأكل به، ولكن الظفر سواء كان متصلًا بيد الإنسان أو منفصلًا من إنسان أو غيره فلا يجوز؛ لأنها سكاكين الكفار، وكذلك السن لا تجوز التذكية به؛ لأنه عظم.
- إن من عادة النبي -صلى الله عليه وسلم- الجميلة أن يكون في آخر الجيش؛ رفقا بالضعيف والمنقطع، فكذا ينبغي للقواد والأمراء، وهكذا ينبغي ملاحظة الضعفاء العاجزين في كل الأحوال، في إمامة الصلاة وغيرها.
- تأديب الإمام لرعيته وجنده، فقد أدبهم النبي -صلى الله عليه وسلم- على هذه العجلة والتصرف، قبل أخذ إذنه، فكان جزاؤهم حرمانهم مما أرادوا.
- الحديث دليل على القاعدة الفقهية: من تعجل شيئا قبل أوانه عوقب بحرمانه.
- العدل لاسيما في موطن جهاد الأعداء والكفار؛ لأنه من أسباب النصر والظفر بالأعداء.
- أن من هرب ولم يمكن إدراكه من الإبل، أو البقر، أو الغنم، أو من الحيوانات المستأنسة، فليقتل برميه، فإن مات فالرمي ذكاته؛ لأنه صار حكمه حكم الوحش النافر.
- وجوب التسمية، وتسقط سهواً وجهلًا.
- جواز التذكية بكل ما أنهر الدم وأساله، من حديد، أو حجر، أو قصب، أو غيرها.