حدیث

جو شخص بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخمی ہوا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا جس کا رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن خوشبو مشک کی سی ہو گی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : «ما من مَكْلُومٍ يُكْلَمُ في سبيل الله، إلا جاء يومَ القيامة، وكَلْمُهُ يَدْمَى: اللَّونُ لَوْنُ الدَّمِ، والرِّيحُ رِيحُ المِسْكِ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخمی ہوا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا جس کا رنگ تو خون جیسا ہوگا لیکن خوشبو مشک کی سی ہوگی“۔

تشریح

نبی ﷺ جہاد فی سبیل اللہ کی فضلیت اور اس بہترین ثواب کو بیان فرما رہے ہیں جو جہاد کرنے والے کو ملے گا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا زخمی ہو جائے اور پھر یا تو اس کی موت واقع ہو جائے یا وہ صحت یاب ہو جائے ( توہر دو صورتوں میں) وہ روز قیامت تمام لوگوں کے سامنےجرأت و بہادری کے ساتھ جہاد کرنے کا تمغہ سجائے آئے گا۔ اس کا زخم بالکل تازہ ہو گا جس کا رنگ تو خون کا ہوگا لیکن اس سے خوشبو مشک کی پھوٹ رہی ہو گی۔

تشریح: العربية

يُبَينُ النبي صلى الله عليه وسلم فضل الجهاد في سبيل الله تعالى وما ينال صاحبه، من حسن المثوبة، بأن الذي يجرح في سبيل الله فيُقْتَلُ أو يبرأ، يأتي يوم القيامة على رؤوس الخلائق بِوِسَام الجهاد والبلاء فيه، إذ يجيء بجرحه طَريًّا، فيه لون الدم، وتفوح منه رائحة المسك.

  • فضل الجهاد، وقد كثرت فضائله، وتعدد ثوابه، لما فيه من عز الإسلام.
  • فضل الشهادة في سبيل الله، وكيف يجازى صاحبها.
  • هذا الفضل والفخر، الذي يتميز به المجروح يوم القيامة.
  • فضل الجراحة في سبيل الله، فهي أثر من طاعته ومجاهدة أعدائه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید