حدیث

جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اسے چاہیے کہ اپنے مال کے ذریعے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو، تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من أعتق شِقْصَاً مِنْ مملوك، فعليهِ خَلاصُهُ كله في ماله، فإِنْ لم يكن له مال؛ قُوِّمَ المملوك قِيمَةَ عَدْلٍ، ثمَّ اُسْتُسْعِيَ العبد، غير مَشْقُوقٍ عليه».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اسے چاہئے کہ اپنے مال کے ذریعے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو، تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے ۔ پھر غلام سے کہا جائے کہ (اپنی آزادی کی) کوشش میں لگ جا‏ۓ۔ لیکن غلام پر اس سلسلے میں کوئی مشقت نہ ڈالی جائے“۔

تشریح

جس نے اپنے زیر ملکیت غلام کا ایک حصہ آزاد کر دیا، اس پر لازم ہے کہ وہ پورے غلام کو آزاد کردے، اگر اس کے پاس اتنا مال ہو۔ یعنی اپنا حصہ آزاد کرنے والے کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام میں اپنے حصہ داروں کو ان کے حصوں کی قیمت ادا کر کےاسے پورا آزاد کر سکتا ہو۔ البتہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو یا مال تو ہو لیکن اتنا نہ ہو کہ آزادی کا خرچ برداشت کر سکے یا پھر ایسا کرنے سے اسے کوئی نقصان ہو، تواس صورت میں وہ غلام کو دو امور کا اختیار دے گا۔ اول:یہ کہ غلام کا اس قدر حصہ ملک میں رہے جو باقی ہے۔ چنانچہ اس صورت میں یہ غلام "مبعض" ہو گا۔ یعنی اس کا بعض حصہ غلام ہو گا اور بعض آزاد۔ اس صورت میں اس کے لیے جائز ہے کہ وہ جزوى غلام بن کر رہے۔ دوم:وہ غلام اس شخص کو رقم ادا کرنے کے لیے کام کرے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا، بعد اس کے کہ غلام کی منصفانہ انداز میں قیمت لگوائی جائے۔ اسے استسعا کہا جاتا ہے۔

تشریح: العربية

أن من أعتق نصيباً له في مملوك؛ فإن المعتق يلزمه عتق المملوك كله إذا كان له مال، أي: للمعتِق مال يتحمل ذلك، بأن يدفع لشركائه قيمة حصتهم في المملوك ليصبح حرًّا، أما إذا لم يكن له مال، أو له مال لا يتحمل ذلك، أو يترتب عليه إضرار به؛ فإنه في هذه الحالة يخير العبد بين أمرين: الأول: أن يبقي نفسه في الملك بقدر الحصة التي بقيت فيكون مبعضاً، أي بعضه رقيق وبعضه معتق؛ فإنه يجوز له في هذه الحالة أن يبقى مملوكاً مبعضاً. الثاني: أن يعمل ليدفع لمن لم يعتقه نصيبه، بعد أن يقوم المملوك قيمة عدل، ويسمى الاستسعاء.

  • من أعتق شركا له في عبد، وكان له ما يبلغ ثمن العبد عتق عليه كله، وقُومَ عليه حصة شريكه بقدر قيمته.
  • إذا لم يكن للمعتق مال، -عتق العبد أيضاً- وطُلِبَ من العبد السعيُ؛ ليحصل للذي لم يعتق نصيبه مباشرة، قيمة حصته، ولا يشق عليه في التحصيل، بل يقدر عليه أصحاب الخبرة قدر طاقته.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید