حدیث

جس نے کوئی ایسا کتّا رکھا جو نہ تو شکار کی غرض سے ہو اور نہ ہی مال مویشی کی حفاظت کے لیے تو اس کہ وجہ سے اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَن اقْتَنَى كَلْبًا -إلا كلبَ صَيْدٍ، أو مَاشِيَةٍ- فإنه يَنْقُصُ من أَجْرِهِ كل يوم قِيرَاطَانِ». قال سالم: وكان أبو هريرة يقول: «أو كلبَ حَرْثٍ»، وكان صَاحِبَ حَرْثٍ.

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کوئی ایسا کتّا رکھا جو نہ تو شکار کی غرض سے ہو اور نہ ہی مال مویشی کی حفاظت کے لیے تو اس کہ وجہ سے اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے“۔ سالم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”یا کھیتی کی حفاظت کرنے والا کتّا“۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھیتی باڑی والے آدمی تھے۔

تشریح

کتے کا شمار گھٹیا اور گندے چوپایوں میں ہوتا ہے اس لیے شریعت مطہرہ نے انھیں رکھنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ ایسا کرنے میں بہت سے نقصانات اور خرابیاں ہیں۔ مثلاً جس گھر میں کتا ہو اس سے ملائکہ کرام دور رہتے ہیں، اسی طرح اس سے دوسرے لوگ خوف اور ڈر کھاتے ہیں اور یہ نجاست اور ضرر رسانی کا سبب ہوتا ہے اور اسے رکھنا کم عقلی کی علامت ہے۔ جو شخص کتا پالتا ہے اس کی وجہ سے روزانہ اس کے اجر کا ایک بہت بڑا حصہ کم ہو جاتا ہے۔ سمجھانے کے لیے دو قیراط کہہ دیا گیا ہے، جس کی مقدار اللہ ہی جانتا ہے۔ کیونکہ یہ شخص کتا رکھ کر اور ایسا کرنے پر مصر ہو کر اللہ کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے۔ تاہم اگر ضرورت ہو تو تین مقاصد میں سے کسی ایک کے لیے اسے رکھا جا سکتا ہے: اول: بھیڑیے اور چوروں کے اندیشے کے پیش نظر مویشیوں کی حفاظت کے لیے۔ دوم: کھیتی کی حفاظت کے لیے۔ سوم: جب اس کے رکھنے کا مقصد شکارکرنا ہو۔ ان منافع کے لیے کتا رکھنا مباح ہے اور ان کی بنا پر وہ شخص ملامت کا مستحق نہیں ہوتا۔

تشریح: العربية

الكلب من البهائم الخسيسة القذرة؛ ولهذا نهى الشرع الشريف الطاهر عن اقتنائه؛ لما فيه من المضار والمفاسد، من ابتعاد الملائكة الكرام البررة عن البيت الذي هو فيه، ولما فيه من الإخافة والترويع والنجاسة والضرر، ولما في اقتنائه من السفه. ومن اقتناه نقص من أجره كل يوم شيء عظيم، قُرِّب معناه بالقيراطين والله أعلم قدر ذلك؛ لأن هذا عصى الله باقتنائه وإصراره على ذلك. فإذا دعت الحاجة إليه جاز اقتناؤه في أحد ثلاثة أشياء: الأولى: حراسة الغنم التي يخشى عليها من الذئب والسارقين. الثانية: حراسة الحرث. الثالثة: إذا قصد به الصيد. فلهذه المنافع يسوغ اقتناؤه وتزول اللائمة عن صاحبه.

  • تحريم اقتناء الكلب، ونقص أجر صاحبه كل يوم قيرِاطين، وهما قدر عظيم، عند الله -تعالى- علمه ومبلغه.
  • منع اقتناء الكلب؛ لما فيه من المفاسد والمضار الكثيرة من بُعْدِ الملائكة عن المكان الذي هو فيه؛ ولما فيه من الإخافة والترويع فقد ثبت عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أن الملائكة لا تدخل بيتا فيه كلب؛ ولما فيه من النجاسة الغليظة التي لا يزيلها إلا تكرير الغسل وغسله بالتراب.
  • يباح اقتناؤه لمصلحة؛ وذلك بأن يكون لحراسة غنم، أو حرث، أو لأجل صيد، فهذه منافع، تسوغ اقتناءه بغير الشراء؛ لأنه محرم بيعه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید