ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عُقْبَة بْن عَامِرٍ رضي الله عنه قال: «نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إلَى بَيْتِ الله الْحَرَامِ حَافِيَةً، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفْتَيْتُهُ، فَقَالَ: لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ».
ترجمہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ تک پیدل ننگے پاؤں جائے گی۔ اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھوں، میں نے اس کے لیے آپ ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”وہ پیدل جائے اور سوار ہو کر (بھی) جائے“۔
تشریح
انسان کی یہ طبیعت ہے کہ وہ بعض اوقات جذبات کی رو میں اپنے آپ پر کوئی ایسی شے واجب کر بیٹھتا ہے جس کا کرنا اس کے لیے باعثِ مشقت ہوتا ہے۔ ہماری شریعت میں عبادت کے سلسلے میں اعتدال اور عدم مشقت کو ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ یہ ہمیشہ جاری رہے۔ اس حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے ان سے کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کریں کہ انہوں نے بیت الحرام کی طرف ننگے پاؤں پیدل جانے کی نذر مانگی تھی؟ (اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟) آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہ عورت کچھ چلنے کی طاقت رکھتی ہے اس لیے آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اتنا چلے جتنا وہ چلنے کی طاقت رکھتی ہے اور جب نہ چل سکے تو پھر سوار ہو جائے۔
تشریح: العربية
مِنْ طَبِيعَةِ الإنسَان أنَّه يَنْدَفِعُ أحياناً فَيُوجِبُ على نفسه مَا يَشُقُّ عليه، وقد جاء شَرْعُنا بالاعتدَال، وعدمِ المشَقَّة عَلى النَّفس في العِبادة حتى تَسْتَمِر، وفي هذا الحدِيثِ طلبت أخت عقبة بن عامر منه، أن يسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أنها نذرت أن تذهب إلى البيت الحرام ماشية حافية، فرَأَى النَّبي صلى الله عليه وسلم أنَّ هذه المرأة تُطِيقُ شَيئاً مِن المشي، فَأمَرَها أَنْ تَمشِي مَا أَطَاقَت المشي، وأَنْ تَرْكَبَ إذا عَجَزَت عَن المشي.
- في الحديث بيانٌ لِبَعْضِ العِلَلِ في كَرَاهِية الشَّارع للنَّذْرِ؛ وهو العَجْزُ عن القِيَامِ بالمنْذُورِ، فالظَّاهِر أَنْ هذه المرأة لما نَذَرَت المشي عَلِمَت مِنْ نَفْسِها عَدَمَ القُدْرَة؛ فاضطَّرَّت إلى الخرُوجِ مِنْ هَذَا المأزِق.
- أنَّ مَنْ نَذَرَ المَشْيَ إلى المسجد الحرَام، أو أحد المسجِدين مَاشِياً، لا يَجِب عَليه الوفاءُ به؛ لأن هَذَا لَيْسَ نَذْر عِبَادة مَقْصُودة، وإنما هو نَذْرٌ مُبَاح. ونَذْرُ المباح، إن لم يَفِ به فعليه الكفارة.
- أنَّه إذا اشْتَمَلَ النَّذْرُ عَلَى أَمْرٍ مُبَاحٍ وعِبَادَةٍ، فلِكُلٍ حُكْمُه، فَيُؤْمَرُ بالعِبَادة؛ لِأنَّها التِّي يَجِبُ الوَفَاءُ بِها، إِذْ قَدْ اشْتَمَلَ أَدَاؤُهَا عَلَى المصْلَحَةِ.
- أنَّه لا يُتَعَبَّد إلا بما شَرَعَه الله -تعالى- مِن الطَّاعات، فالأَصْلُ في العِبَادَات الحَظْر؛ فَلا يُشْرَعْ إلا ما شَرَعَه الله ورسوله.