حدیث

ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ» ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا».

ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا : "ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔" پھر ایک تازہ شاخ لی، اسے آدھا آدھا پھاڑا اور ایک ایک حصہ دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے جواب دیا: "شاید ان دونوں کا عذاب اس وقت تک کے لیے ہلکا کر دیا جائے، جب تک یہ دونوں شاخیں سوکھ نہ جائیں۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ان قبروں میں دفن دونوں شخص عذاب کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ عذاب ایسے کاموں کی وجہ سے جھیل رہے ہیں، جو تمھاری نظروں میں تو بڑے نہیں ہیں، لیکن اللہ کی نظر میں بڑے ہيں۔ ان دونوں میں سے ایک شخص قضائے حاجت کے وقت اپنے جسم اور کپڑوں کو پیشاب سے بچانے پر دھیان نہيں دیتا تھا۔ جب کہ دوسرا شخص لوگوں کے بیچ لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔ وہ نقصان پہنچانے اور اختلاف پیدا کرنے کے ارادے سے ایک شخص کی بات دوسرے شخص کو پہنچایا کرتا تھا۔

فوائد

  • لگائی بجھائی کرنا اور پیشاب سے بچنے پر دھیان نہ دینا کبیرہ گناہ اور عذاب قبر کا سبب ہے۔
  • اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کچھ غیب کی چیزیں کھول دیں، تاکہ یہ آپ کے نبی ہونے کی ایک دلیل بن سکے۔
  • ایک شاخ لینے اور اسے پھاڑ کر قبر پر رکھنے کا یہ عمل اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص ہے۔ کیوں کہ اللہ نے آپ کو ان دونوں قبروں میں دفن لوگوں کا حال بتا دیا تھا۔ اس سلسلے میں آپ پر کسی کو قیاس اس لیے نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی قبر میں دفن لوگوں کا حال جان نہیں سکتا۔
تشریح: العربية

مَرَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بقبرين فقال: إنَّ صاحبَي هذين القبرين لَيُعذّبان؛ وما يعذبان في أمر كبير في نظركم، وإن كان كبيرًا عند الله، أمّا أحدُهما فكان لا يَهتَمُّ بحفظ جَسَدِه وثيابِه مِن البول حين يَقْضي حاجتَه، والآخَرُ كان يمشي بالنميمة بين الناس، فيَنْقُلُ كلامَ غيرِه بقصد الإضرار وإيقاع الخلاف والوقيعة بين الناس.

  • النميمةُ وتركُ التنزُّهِ مِن البول مِن كبائر الذنوب ومِن أسباب عذاب القبر.
  • كَشف الله سبحانه بعض المغيبات -كعذاب القبر- إظهارًا لعلامة نبوتِهِ صلى الله عليه وسلم.
  • هذا الفعلُ مِن شَقِّ الجريدتين ووضعِها على القبر خاصٌّ بالنبي صلى الله عليه وسلم؛ لأن الله أطْلَعَه على حالِ صاحبَي القبر، فلا يقاس غيره به لأنه لا أحد يعلم أحوال أصحاب القبور.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید