حدیث

اللہ نے کوئی ایسا نبی اور خلیفہ نہیں بھیجا کہ اس کے مشیر (صلاح کار)دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسے نیکی اوربھلائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسے برائی کا حکم دیتے ہیں اوراس پر اسے ابھارتے رہتے ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري وأبي هريرة رضي الله عنهما مرفوعاً: "ما بعث الله من نبي ولا اسْتَخْلَفَ من خليفة إلا كانت له بطانتان: بطانة تأمره بالمعروف وتَحُضُّهُ عليه، وبطانة تأمره بالشر وتَحُضُّهُ عليه، والمعصوم من عصم الله".

ترجمہ

ابوسعید خدری - رضی اللہ عنہ - سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور برائیوں سے معصوم و محفوظ تو وہی ہوسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم و محفوظ رکھے“۔

تشریح

نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہےاور برائی کے مشیر کی تاثیر سے وہی شخص بچ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔

تشریح: العربية

أخبر النبي -عليه الصلاة والسلام- أن الله ما بعث من نبي ولا استخلف من خليفة إلا كان له بطانتان: بطانة خير تأمره بالخير وتحثه عليه، وبطانة سوء تدله على السوء وتأمره به، والمحفوظ من تأثير بطانة الشر هو من حفظه الله تعالى .

  • الأمر بيد الله -تعالى- يؤتي ملكه من يشاء وينزع الملك ممن يشاء، ويهدي من يشاء ويضل من يشاء.
  • من واجب الحاكم أن يتخيَّر البطانة الصالحة، التي هي عنوان سعادته.
  • العبد إما أن يكون داعية إلى الله يأمر بالمعروف ويحض عليه، وينهى عن المنكر ويحذر منه، أو يدعو إلى الشيطان وحزبه.
  • الخواص والبطانة منهم أهل صلاح وخير يأمرون بطاعة الله ورسوله، وينهون عن الشر ويذكرون بلقاء الله، ومنهم أهل فساد وشر على العكس من ذلك.
  • لا سبيل إلى اتقاء شر بطانة السوء إلا بالاعتصام بالله ولزوم تطبيق شرعه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید