ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ المُؤَذِّنُ».
ترجمہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اذان سنتے وقت مؤذن کا جواب دینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ جواب میں ہمیں جملہ در جملہ وہی کچھ کہنا چاہیے، جو مؤذن کہتا ہو۔ جب وہ تکبیر کہے، تو ہم اس کے بعد تکبیر کہیں گے اور جب وہ دونوں گواہیاں پیش کرے، تو ہم اس کے بعد دونوں گواہیاں پیش کريں گے۔ لیکن "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کے الفاظ اس سے مستثنی ہیں۔ ان دونوں جملوں کے بعد "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہا جائے گا۔
فوائد
- ایک مؤذن کی اذان ختم ہونے کے بعد دوسرے مؤذن کے کلمات کا بھی جواب دیا جائے گا۔ اگرچہ مؤذن متعدد ہوں، تب بھی۔ کیوں کہ حدیث عام ہے۔
- انسان اگر بیت الخلا میں نہ ہو یا قضائے حاجت میں مشغول نہ ہو، تو دیگر تمام حالتوں میں وہ مؤذن کا جواب دے گا۔
تشریح: العربية
يَحُثُّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم على إجابة المؤذِّن عند سماعه، وذلك بأنْ نقولَ مثل ما يقول، جُملةً بجملة، فحينما يُكَبِّرُ نُكَبِّرُ بعدَه، وحينما يأتي بالشهادتين، نأتي بهما بعده، ويستثنى لفظ: (حي على الصلاة، حي على الفلاح) فإنه يُقال بعدهما: لا حول ولا قوة إلا بالله.
- يتابع المؤذن الثاني بعد انتهاء الأول، وإنْ تعدَّد المؤذنون؛ لعموم الحديث.
- يُجيبُ المُؤذِّنَ في كلِّ أحوالِه، إنْ لم يكن في خَلاءٍ أو على حاجتِهِ.