حدیث

میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں، اس پر اس شخص نے کہا: تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أنَّ رَجُلاً كَانَ عِند النَبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ، فقال: يا رسول الله، أنِّي لَأُحِبُّ هَذَا، فَقَال لَهُ النَبِيُّ صلى الله عليه وسلم : «أَأَعْلَمْتَهُ؟» قال: لا. قال: «أَعْلِمْهُ»، فَلَحِقَهُ، فقال: إِنِّي أُحِبُّك فِي الله، فقال: أّحَبَّك الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ.

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک شخص کا اس کے قریب سے گزر ہوا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟۔ اس نے جواب دیا : نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے یہ بات بتادو۔ چنانچہ اس آدمی نے اس شخص کے پیچھے جا کر اسے بتایا کہ : میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس پر اس شخص نے کہا: تم سے بھی وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔

تشریح

اس حدیث شریف میں نبی ﷺ کے فرمان کی عملی تطبیق کا بیان ہے کہ انسان اگر اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اس کے بارے میں بتائے۔ جب آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ایک آدمی نے آپ ﷺ سے کہا کہ میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، جو ان کے پاس سے گزرا تھا، تو آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: "کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟"۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب کوئی کسی مسلمان سے محبت کرتا ہو، تو اس کا یہ کہنا کہ "میں تم سے محبت کرتا ہوں" سنت ہے؛ کیوں کہ اس سے اس کے دل میں بھی محبت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے کہ انسان کو جب اپنے بھائی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، تو وہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے، اگرچہ زبانوں سے اظہار نہ بھی ہو، تب بھی دلوں میں باہم جان پہچان اور مانوسیت ہوتی ہی ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "روحیں لشکر کی طرح ایک جگہ مجتمع تھیں، چنانچہ جو روحیں ایک دوسرے سے آپس میں مانوس و متعارف تھیں، وہ (اس دنیا میں بھی) ایک دوسرے کے ساتھ محبت و الفت رکھتی ہیں اور جو روحیں ایک دوسرے سے ان جان و نامانوس تھیں، وہ (اس دنیا میں بھی) اختلاف رکھتی ہیں"۔ لیکن انسان کا اپنی زبان سے اظہار محبت کرنا دوسرے کے دل میں محبت کو بڑھاتا ہے۔ چنانچہ اسے کہنا چاہیے کہ میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔

تشریح: العربية

جاء هذا الحديث النبوي الشريف تطبيقا لأمره صلى الله عليه وسلم بأن يُعلِم الإنسان أخاه إذا أحبَّه، لَمَّا قال له رجلٌ جالسٌ عنده: إنِّي أحب هذا الرجل. يقصد رجلًا آخر مرَّ بهما، فقال له صلى الله عليه وسلم : " أأعلمته" فدل هذا على أنه من السنَّة إذا أحبَّ المسلم شخصا أن يقول له: إني أحبك، وذلك لما في هذه الكلمة من إلقاء المحبة في قلبه؛ لأنَّ الإنسان إذا علم من أخيه أنَّه يحبه أحبَّه، مع أن القلوب لها تعارف وتآلف وإن لم تنطق الألسن. وكما قال النبي -عليه الصلاة والسلام-: "الأرواح جنود مجندة ما تعارف منها ائتلف، وما تناكر منها اختلف" لكن إذا قال الإنسان بلسانه، فإن هذا يزيده محبة في القلب فيقول: إني أحبك في الله.

  • استحباب ذهاب الإنسان إلى أخيه ليخبره أنه يحبه، فإن في ذلك زيادة الألفة وتبادل وتقوية أسباب المحبة.
  • اللقاء على منهج الله يزيد في الألفة.
  • استحباب إظهار المحبة في الله، والدعاء لفاعل الخير مثل عمله.
  • إثبات صفة المحبة لله -تعالى-، فإذا أحب المؤمن أخاه لإيمانه أحبه الله فالجزاء من جنس العمل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید