حدیث

یہ ایک رگ سے نکلنے والا خون ہے۔ بس اتنے ہی دن نماز چھوڑو، جتنے دن اس سے پہلے حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر لو اور نماز پڑھو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المؤمنين رضي الله عنها أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ؟ فَقَالَ: «لَا، إِنَّ ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَكِنْ دَعِي الصَّلاَةَ قَدْرَ الأَيَّامِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي».

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابو حبیش رضی اللہ عنہا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا : میں استحاضے کی شکار ہوں اور پاک نہیں ہو پاتی۔ کیا میں نماز چھوڑ سکتی ہوں؟ آپ نے جواب دیا : "نہیں، یہ ایک رگ سے نکلنے والا خون ہے۔ بس اتنے ہی دن نماز چھوڑو، جتنے دن اس سے پہلے حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر لو اور نماز پڑھو۔"

تشریح

فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ ان کا خون بند نہيں ہوتا اور حیض کے علاوہ دوسرے دنوں میں بھی خون جاری رہتا ہے، تو کیا یہ خون حیض کا خون مانا جائے گا اور وہ نماز چھوڑ سکتی ہیں؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ یہ حیض کا نہیں، بلکہ استحاضہ کا خون ہے۔ یہ رحم کی نس پھٹ جانے کی وجہ سے نکلتا ہے۔ لہذا جب حیض کے وہ دن آئيں، جن دنوں میں تم کو استحاضہ کی شکار ہونے سے پہلے حسب معمول خون آیا کرتا تھا، تو نماز اور روزہ وغیرہ وہ چیزیں چھوڑ دو، جو حیض کے دنوں میں منع ہیں۔ پھر جب حیض کی مدت کے برابر وقت گزر جائے، تو تم حیض سے پاک ہو گئی۔ اس لیے خون کی جگہ کو دھو ڈالو اور مکمل طریقے سے حیض سے پاکی کا غسل کر لو اور پھر نماز پڑھو۔

فوائد

  • حیض کے دن ختم ہونے کے بعد عورت پر غسل واجب ہے۔
  • مستحاضہ پر نماز واجب ہے۔
  • حیض : وہ طبعی خون ہے، جو بالغ عورت کے رحم سے شرم گاہ کے راستے مخصوص دنوں میں باہر آتا ہے۔
  • استحاضہ : رحم کى گہرائى کی بجائے اس کے اوپرى والے حصے سے بے وقت خون بہنا۔
  • حیض کے خون اور استحاضہ کے خون کے درمیان فرق یہ ہے کہ حیض کا خون کالا، گاڑھا اور بدبودار ہوتا ہے، جب کہ استحاضہ کا خون لال، پتلا اور غیر بدبودار ہوتا ہے۔
تشریح: العربية

سَألتْ فاطمةُ بنت حبيش النبيَّ صلى الله عليه وسلم فقالت: إني لا ينقطع عني الدم ويستمر حتى في غير زمن الحيض، فهل يكون حكم ذلك حكم الحيض فأترك الصلاة؟ فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم: إنه دم استحاضة، وهو دم مَرَضِيٌّ ينشأ عن انقطاع عرق في الرحم، وليس بدم حيض، فإذا جاء وقت الحيض الذي كنت تحيضين فيه على عادتك الشهرية قبل أن تمرضين بالاستحاضة، فاتركي الصلاة والصوم وغيرَهما مما تُمنَع منه الحائض وقت الحيض. فإذا انتهى مقدار تلك المدة، فتكوني قد طهرتي من الحيض، فاغسلي موضع الدم، ثم اغسلي بدنك اغتسالًا كاملًا لرفع الحدث، ثم صلي.

  • وجوب الغسل على المرأة عند انتهاء أيام حيضها.
  • وجوب الصلاة على المستحاضة.
  • الحيض: دمُ طبيعةٍ يُرْخِيْه الرَّحِمُ عَبْرَ فَرْجِ المرأةِ البالغة، يصيبها في أيام معلومة.
  • الاستحاضة: سَيَلانُ الدمِ في غير وقته من أدنى الرحم دون قَعْرِه.
  • الفرق بين دم الحيض ودم الاستحاضة: أنَّ دمَ الحيضِ أسود ثخين مُنْتِن الرائحة، أما دم الاستحاضة فأحمر رقيق ليس له رائحة منتنة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید