حدیث

جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: یہاں نہ تمھارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کے کھانے کی گنجائش

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَذَكَرَ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ، وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ، فَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ».

ترجمہ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے ہوئے سنا: "جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: یہاں نہ تمھارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کے کھانے کی گنجائش۔ اور جب وہ گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہيں لیتا، تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی اور جب کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو کہتا ہے : تم نے رات بتانے کی جگہ اور رات کا کھانا دونوں پا لیا۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھانے سے پہلے اللہ کا نام لینے کا حکم دیا ہے۔ جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت بسم اللہ کہتا ہے، تو شیطان اپنے معاونوں سے کہتا ہے کہ تمھارے لیے اس گھر میں رات گزارنے کی جگہ اور رات کے کھانے کی گنجائش نہیں ہے، کیوں کہ گھر کے مالک نے تم سے اللہ کی پناہ لے لی ہے۔ اس کے برخلاف جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو شیطان اپنے معاونوں سے کہتا ہے کہ اس گھر میں ان کے رات گزارنے اور کھانے کا انتظام ہو گیا ہے۔

فوائد

  • گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لینا مستحب ہے۔ کیوں کہ اللہ کا نام نہ لینے کی صورت میں شیطان گھر میں رات گزارتا ہے اور کھانے میں شریک ہو جاتا ہے۔
  • شیطان انسان کے ہر کام کو دھیان سے دیکھتا رہتا ہے اور جیسے ہی انسان اللہ کے نام سے غافل ہوتا ہے، اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔
  • اللہ کا ذکر شیطان کو بھگانے کا کام کرتا ہے۔
  • ہر شیطان کے کچھ پیروکار اور معاونین ہوتے ہیں، جو اس کی بات سے خوش ہوتے ہیں اور اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
تشریح: العربية

أَمَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بِذِكْر الله عند دخول البيت وقبل تَنَاوُلِ الطعام، وأنه إذا ذَكَرَ اللهَ بقوله: (باسم الله) عند دخوله لبيتِه وعند بدء طعامِه، قال الشيطان لأعوانه: لا حَظَّ لكم بالمبيت ولا العشاء في هذا البيت الذي تَحَصَّنَ صاحبُه منكم بذكر الله تعالى. وأما إذا دخل الرجل بيته فلم يذكر الله عند دخوله ولا عند تناوله الطعام، فيخبر الشيطان أعوانه أنهم أدركوا المبيت، والعشاء في هذا البيت.

  • استحباب ذِكرِ الله عند دخول البيت وعند الطعام، فإن الشيطان يبيت في البيوت، ويأكل من طعام أهلها إذا لم يذكروا اسم الله تعالى.
  • الشيطان يُراقِبُ ابنَ آدم في عملِهِ وتَصَرُّفِه وفي أموره كلِّها، فإذا غَفَل عن الذكر نال مُرادَه منه.
  • الذكر يطرد الشيطان.
  • لكل شيطان أتباع وأولياء يستبشرون بقوله ويَتَّبعون أمرَه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید