حدیث

کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ».

ترجمہ

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔"

تشریح

اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کبیرہ گناہ بیان کر رہے ہيں۔ دراصل کبیرہ گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں، جن میں ملوث ہونے والوں کو دنیا یا آخرت کی کوئی سخت وعید سنائی گئی ہو۔ چنانچہ سب سے پہلا کبیرہ گناہ ہے اللہ کا شریک ٹھہرانا۔ یاد رہے کہ شرک نام ہے کوئی بھی عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے کرنے اور غیراللہ کو الوہیت، ربوبیت اور اسما و صفات میں اللہ کے برابر لا کھڑا کرنے کا۔ دوسرا کبیرہ گناہ ہے والدین کی نافرمانی کرنا۔ واضح رہے کہ اس سے مراد ہر والدین کو تکلیف دینے والا ہر قول وفعل اور ان کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرنا ہے۔ تیسرا گناہ ناحق کسی کو جان سے مار دینا ہے۔ مثلا کسی کو ظلم و سرکشی کے طور پر مار دینا۔ چوتھا گناہ ہے جھوٹی قسم کھانا۔ یعنی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا۔ اسے عربی میں "یمین غموس" اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ قسم کھانے والے کو گناہ یا جہنم میں ڈوبا دیتی ہے۔

فوائد

  • جھوٹی قسم کھانا اتنا خطرناک گناہ اور بڑا جرم ہے کہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔بلکہ توبہ ہی اسے مٹا سکتی ہے۔
  • اس حدیث میں ان چار کبیرہ گناہوں پر اکتفا دراصل ان کی سنگینی کے پیش نظر کیا گیا ہے، یہ بتانے کے لیے نہيں کہ کبیرہ گناہ یہی چار ہیں۔
  • گناہ کی دو قسمیں ہيں؛ صغیرہ گناہ اور کبیرہ گناہ۔ کبیرہ گناہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے، جس کی کوئی دنیوی سزا متعین ہو، جیسے حدود اور لعنت وغیرہ یا جس پر کوئی اخروی وعید سنائی گئی ہو، جیسے جہنم میں داخلے کی وعید۔ کبیرہ گناہوں میں سے بھی کچھ گناہ کی حرمت دیگر کبیرہ گناہوں کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے۔ جب کہ صغیرہ گناہوں سے مراد کبیرہ گناہ کے علاوہ دیگر گناہ ہیں۔
تشریح: العربية

يُبَيِّنُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم كبائر الذنوب، وهي التي تُوُعِّدَ فاعلُها بوعيد شديد في الدنيا أو الآخرة. فأوَّلُها "الإِشرَاكُ بِالله": وهو صَرْفُ أيِّ نوع من أنواع العبادة لغير الله، وتسوية غير الله بالله فيما هو من خصائص الله في ألوهيته وربوبيته وأسمائه وصفاته. وثانيها "عُقُوقُ الوَالِدَينِ": وهو كلُّ ما يوجب الأذى للأبوين قولًا كان أو فعلًا، وترك الإحسان إليهما. وثالثها "قَتْل النَّفْس": بغير حق، كالقتل ظلمًا وعدوانًا. ورابعها "اليَمِين الغَمُوسُ": وهي الحلف كاذبًا على علم منه بكذبه، سميت بذلك؛ لأنَّها تَغْمِسُ صاحبَها في الإِثم أو في النار.

  • اليمين الغموس لا كفارة لها؛ لشدة خطرها وجرمها، وإنما فيها التوبة.
  • الاقتصار على ذكر هذه الكبائر الأربع في الحديث لعظيم إثمها، وليس لحصرها.
  • الذنوب تنقسم إلى كبائر وصغائر، والكبيرة هي: كلُّ ذنب فيه عقوبة دنيوية، كالحدود واللعن، أو وعيد أُخروي، كالوعيد بدخول النار، وأن الكبائر دركات بعضها أغلظ من بعض في التحريم، وصغائر الذنوب هي ما سوى الكبائر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید