حدیث

تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو پیشاب نہ کرے۔ اور پھر اسی میں غسل کرنے لگے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: "لا يَبُولَنَّ أحَدُكم في الماء الدَّائِم الذي لا يجْرِي، ثمَّ يَغتَسِل مِنه". وفي رواية: "لا يغتسل أحدكُم في الماء الدَّائم وهو جُنُب".

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو پیشاب نہ کرے، اور پھر اسی میں غسل کرنے لگے“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ (رسول ﷺ نے فرمایا) ”تم میں سے کوئی بھی حالتِ جنابت میں ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے“۔

تشریح

نبی ﷺ نے ایسے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا جو ٹھہرا ہوا ہو اورجاری نہ ہو۔ کیونکہ اس کی وجہ سے یہ نجاست سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ وہ امراض جو پیشاب کے بسبب در آ سکتے ہیں ہر اس شخص کو نقصان دے سکتے ہیں جو پانی کو استعمال کرے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود پیشاب کرنے والا ہی اس پانی کو استعمال کرے اور اس سے غسل کرے۔ چنانچہ اس کے لیے کیسے روا ہے کہ وہ ایسی شے میں پیشاب کرے جو بعد میں اس کے لیے حصولِ طہارت کا ذریعہ ہو گی۔ اسی طرح نبی ﷺ نے جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ایسا کرنا پانی کو جنابت کی گندگی سے آلودہ کر دیتا ہے۔

تشریح: العربية

نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن البول في الماء الراكد الذي لا يجري؛ لأن ذلك يقتضي تلوثه بالنجاسة والأمراض التي قد يحملها البول فتضر كل من استعمل الماء، وربما يستعمله البائل نفسه فيغتسل منه، فكيف يبول بما سيكون طهورًا له فيما بعد. كما نهى عن اغتسال الجنب في الماء الراكد؛ لأن ذلك يلوث الماء بأوساخ وأقذار الجنابة.

  • النًهْي عن البول في الماء الذي لا يجرى وتحريمه، وأولى بالتحريم التغوط سواء أكان قليلا أم كثيرا، دون المياه المستبحرة فإن ماءها لا يتنجس بمجرد الملاقاة.
  • النهي عن الاغتسال في الماء الدائم بالانغماس فيه، لاسيما الجنب ولو لم يبُلْ فيه كما في رواية مسلم، والمشروع أن يتناول منه تناولا.
  • جواز ذلك في الماء الجاري، والأحسن اجتنابه.
  • النهي عن كل شيء من شأنه الأذى والاعتداء، وهذا دليل كمال الشريعة الإسلامية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید