ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ».
ترجمہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "دنیا شیریں اورسرسبز وشاداب ہے اور اللہ اس میں تمہیں یکے بعد دیگرے بھیجنے والا ہے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل میں رونما ہونے والا پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ دنیا چکھنے میں میٹھی اور دیکھنے میں سرسبز و شاداب ہے، اس لیے انسان اس کے دھوکے میں آ جاتا ہے، اس پر ٹوٹ پڑتا ہے اور اسے اپنا سب سے بڑا مقصد بنا لیتا ہے۔ جب کہ اللہ نے اس دنیوی زندگی میں ہمیں ایک دوسرے کا جانشیں بنا دیا ہے، تاکہ یہ دیکھے کہ ہمارا عمل کیسا رہتا ہے؟ ہم اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارتے ہیں یا اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہيں؟ اس کے بعد آپ نے بتایا : اس بات سے خبردار رہنا کہ دنیا کے ساز و سامان اور چمک دمک تم کو دھوکے میں ڈال دیں اور اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں میں ملوث ہونے پر آمادہ کر لیں۔ دنیا کے جن فتنوں سے سب سے زیادہ بچنا ضروری ہے، ان میں سے ایک فتنہ عورتوں کا فتنہ ہے۔ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں سے ہی متعلق تھا۔
فوائد
- تقوی کی راہ پر چلنے اور دنیا کی ظاہری چمک دمک کے شکار نہ ہونے کی ترغیب۔
- اس حدیث میں عورتوں کے فتنے میں پڑنے، جیسے اجنبی عورتوں کو دیکھنے اور ان کے ساتھ تنہائی میں رہنے وغیرہ سے خبردار کیا گیا ہے۔
- عورتوں کا فتنہ دنیا کے بڑے فتنوں میں سے ایک ہے۔
- ہمیں پچھلی امتوں سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ کیوں کہ جو کچھ بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا، وہ دوسروں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
- عورتوں کے فتنے کے مختلف روپ ہیں۔ جب وہ بیوی ہوتی ہے، تو کبھی کبھی مرد کو اتنا خرچ کرنے پر مجبور کرتی ہے، جو اس کی طاقت سے باہر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دین کے کاموں میں وقت نہيں دے پاتا اور خود کو دنیا کی طلب میں لگا دیتا ہے اور جب وہ اجنبی عورت ہوتی ہے اور گھر سے سج دھج کر بے پردہ ہوکر باہر نکلتی اور مردوں کے ساتھ گھلتی ملتی ہے، تو اس سے زنا کے مختلف دروازے کھلتے ہیں۔ اس لیے ایک مؤمن کو عورت کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ کی رسی کو تھامے رہنا چاہیے اور اسی سے لو لگانا چاہیے۔
تشریح: العربية
يُبَيِّنُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ الدنيا حُلوةٌ في المذاق، خَضِرَةٌ في المَرْأَى، فيغتر الإنسان بها وينهمك فيها ويجعلها أكبرَ همه. وأنَّ الله سبحانه وتعالى جعل بعضَنا يَخلُف بعضًا في هذه الحياة الدنيا، لينظر كيف نعمل، أفنقوم بطاعته، أم نعصيه؟ ثم قال: احذروا أنْ يَخدَعَكم متاعُ الدنيا وزينتُها، فتحملكم على ترك ما أمركم الله به، والوقوع فيما نهاكم عنه. ومن أعظم ما يجب الحذر منه من فتن الدنيا فتنة النساء، وأنها كانت أول فتنة وقع فيها بنو إسرائيل.
- الحثُّ على مُلازمة التقوى، وعدم الانشغال بظواهر الدنيا وزينتها.
- الحذر من الافتتان بالنساء، مِن نَظَرٍ أو تساهُلٍ باختلاطِهن بالرجال الأجانب، أو غير ذلك.
- فتنة النساء من أعظم الفتن في الدنيا.
- الاتَّعاظ وأخذ العبرة من الأمم السالفة، فالذي حصل لبني إسرائيل قد يحصل لغيرهم.
- فتنة النساء إذا كانت زوجة فإنها قد تُكَلِّفُ الرجلَ مِن النفقة ما لا يطيق، فتشغله عن طلب أمور الدِّين، وتحمله على التهالك على طلب الدنيا، وإن كانت أجنبيةً ففتنتُها بإغراء الرجال وإمالتِهم عن الحق إذا خَرَجْنَ واختلطْنَ بهم، خصوصًا إذا كُنَّ سافراتٍ متبرجاتٍ، وهذا قد يؤدِّي إلى الوقوع في الزنا بدرجاته، فينبغي للمؤمن الاعتصام بالله، والرغبة إليه في النجاة من فتنتهن.