ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي طَرِيف عدي بن حاتم رضي الله عنه مرفوعاً: «مَن حَلَف على يَمِين ثم رأى أَتقَى لله مِنها فَلْيَأت التَّقوَى».
ترجمہ
ابو طریف عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی بات پر قسم کھا لے، پھر اس سے زیادہ پرہیزگاری والا عمل دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ پرہیزگاری والا عمل اختیار کرے“۔
تشریح
حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ جس نے کسی شے کو چھوڑنے یا کرنے کی قسم اٹھائی، پھر اسے لگا کہ اس کی مخالفت کرنا قسم کو پورا کرنے سے بہتر اور زیادہ تقوی والا ہے، تو ایسے شخص کا قسم کو توڑ کر اس سے زیادہ بہتر عمل کو کرنا مستحب اور مندوب ہے۔ اگر جس شے پر قسم اٹھائی گئی ہو ایسی ہو جس کا کرنا یا چھوڑنا واجب ہے جیسے کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ وہ نماز کو چھوڑ دے گا یا پھر کسی نشہ آور شے کو پئے گا، تو اس صورت میں اس پر قسم توڑ کر اس فعل کو سر انجام دینا واجب ہے جو تقویٰ وپرہیزگاری کا کام ہے یعنی جس کام کا حکم دیا گیا ہے اسے بجا لانا اور جس سے منع کیا گیا ہے اس سے باز رہنا۔
تشریح: العربية
في الحديث: أنَّ من حلَف على ترك شيء، أو فعله فرأى مخالفة ذلك خيرًا من الاستمرار على اليمين وأتقى، ترك يمينه وفعل ما هو خير، على الاستحباب والندب، فإن كان المحلوف عليه مما يجب فعله أو تركه كأن حلف ليتركنّ الصلاة أو ليشربنّ المسكر، وجب عليه الحنث والإتيان بما هو التقوى من فعل المأمور به، وترك المنهيّ عنه.
- من حلف بالله وجب عليه إبرار قسمه وعدم الحنث فيها.
- إذا كانت اليمين تمنع من طاعة الله أو تُفَوِّت خيرًا كثيرًا، أو توقع في معصية فعلى العبد أن يُكفِّر عن يمينه، ويفعل ما أمره الله به، ويجتنب معصيته.
- وجوب التزام التقوى في الأحوال كلها.
- من عزم على فعل معصية فلا يفعلها، فإن كان قد أقسم على فِعلها، فإنَّه يحنث ويُكَفِّر عن يمينه، ولا يأتي بالمعصية.