ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنين رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا، حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ.
ترجمہ
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: میں نے اللہ کے نبی ﷺ کو کبھی اس طرح قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے گلے کے کوے کو دیکھ سکوں۔ آپﷺ تو بس مسکرایا کرتے تھے۔
تشریح
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر دی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس طرح کھلکھلاکر نہيں ہنستے تھے کہ کوا دکھ جائے۔ بس مسکرا دیا کرتھے تھے۔ کوا حلق کے اوپری حصے میں موجود گوشت کے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔
فوائد
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی چيز کو پسند فرماتے یا خوش ہوتے، تو بس مسکرا دیا کرتے تھے آپ کى ہنسى کى کیفیت بس یہی ہوا کرتى تھى۔
- ابن حجر (اس حدیث کا معنى بیان کرتے ہوئے) کہتے ہیں: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اس طرح کھلکھلاکر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کا سراپا ہنسنے میں محو ہو جائے۔
- بہت زیادہ ہنسنا اور زور سے قہقہہ لگانا صالحین کی صفات میں سے نہیں ہے۔
- زیادہ ہنسنے سے لوگوں کے درمیان انسان کا وقار اور اس کی ہیبت ختم ہو جاتی ہے۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَتْ عائشةُ رضي الله عنها أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم لم يكن مُبالِغًا في الضحك حتى تُرى لَهَاتُهُ، وهي اللَّحْمَة المُتعلِّقة في أعلى الحَلْق، إنما كان يَتَبَسّم.
- كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ضَحِكُهُ التبسم إذا رضي أو أُعْجِب بشيء.
- قال ابن حجر: ما رأيته مُستجْمِعًا من جهة الضحك بحيث يضحك ضَحِكًا تامًّا مُقبِلًا بِكُلّيته على الضحك.
- كثرة الضحك وارتفاع الصوت بالقهقهة ليس من صفات الصالحين.
- كثرة الضحك تُذهِب هيبةَ الرجل ووقارَه بين إخوانه.