حدیث

ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ مشکل اور آسانی میں، چستی وسستی میں اور خود پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن عُبَادَةَ بن الصَّامتِ رضي الله عنه قال: بَايَعْنَا رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم على السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وعلى أَثَرَةٍ علينا، وعلى أَلَّا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أهلَه، وعلى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أينما كُنَّا، لا نَخَافُ في الله لَوْمَةَ لَائِمٍ.

ترجمہ

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ مشکل اور آسانی میں، چستی وسستی میں اور خود پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اصحاب اقتدار سے تنازع نہیں کریں گے، ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کریں گے۔"

تشریح

اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں سے اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ آسان اور مشکل حالت اور مال داری اور غربت میں، حکام کے فرمان ان کو پسند ہوں یا نہ ہوں، یہاں تک کہ حکمراں عوامی دولت اور عہدوں وغیرہ کی تقسیم کے معاملے میں ان پر کسی کو ترجیح ہی کیوں نہ دیتے ہوں، حکمرانوں کی بات مان کر چلیں گے اور ان کے خلاف بغاوت کا پرچم نہيں اٹھائیں گے۔ کیوں کہ ان سے لڑنے کے نتیجے میں جو فتنہ و فساد برپا ہوگا، وہ ان کے ظلم کے نتیجے میں ہونے والے فتنہ و فساد سے زیادہ بڑا ہوگا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے اس بات کا بھی عہد لیا کہ وہ جہاں بھی رہیں گے، اللہ کی رضا جوئی کے لیے حق بات کہیں گے اور کسی کی سرزنش کی پرواہ نہیں کریں گے۔

فوائد

  • حکمرانوں کی بات سننے اور ماننے کا فائدہ یہ ہوگا کہ مسلمان متحد رہیں گے اور ان کے درمیان اختلاف و انتشار کو راہ نہیں ملے گی۔
  • حکمرانوں کی باتوں کو، جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں، سننا اور ماننا ضروری ہے، آسان حالت میں بھی اور مشکل حالت میں بھی، پسند ہو تب بھی اور ناپسند ہو تب بھی، یہاں تک کہ کسی اور کو ترجیح دی جائے، تب بھی۔
  • ہم جہاں بھی رہیں، کسی کی سرزنش کی پرواہ کیے بغیر حق بات کہنا واجب ہے۔
تشریح: العربية

أَخَذَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم العهدَ والميثاقَ من الصحابة في الانقياد لأولي الأمر والحُكَّام في السهل والصعب وحالة الغنى والفقر، وسواء كانت أوامرهم مما تهواه النفس أو تكرهه، حتى ولو استأثر الولاةُ على الرعية بالمال العام أو المناصب أو غير ذلك، فإنه يجب لهم السمع والطاعة بالمعروف، وأن لا يخرجوا عليهم لأن الفتنة والفساد في قتالهم أعظم وأشد من الفساد الحاصل بظلمهم، ومما عاهدوا عليه أن يقولوا الحقَّ في أيِّ مكانٍ مُخلِصين في ذلك لله لا يخافون مَن يَلُوْمُهم.

  • ثمرة السمع والطاعة لولاة الأمر اجتماعُ كلمةِ المسلمين ونَبْذُ الفُرْقة.
  • وجوب السمع والطاعة لولاة الأمور في غير معصية الله في اليُسْر والعُسْر، والمنشط والمكره والأَثَرَةِ التي يستأثرون بها.
  • وجوب قول الحق أينما كُنَّا، من غير أن نخاف في الله لومة لائم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید