ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن زيد بن عاصم المازني رضي الله عنه قال: (شُكِيَ إلى النبيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجلُ يُخَيَّلُ إِليه أنَّه يَجِد الشَّيء في الصَّلاة، فقال: لا ينصرف حتَّى يَسمعَ صَوتًا، أو يَجِد رِيحًا).
ترجمہ
عبد اللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: نبی ﷺ سے ایک ایسے شخص کی حالت بیان کی گئی، جسے یہ خیال گزرتا تھا کہ نماز میں اس کی ہوا نکل رہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ (اپنی نماز سے) نہ پلٹے، جب تک آواز نہ سن لے یا اسے بو محسوس نہ کرے۔
تشریح
یہ حدیث جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، اسلام کے عمومی قواعد اور اصولوں میں سے ایک ہے، جن پر بہت سے اہم ترین احکامات کی بنیاد کھڑی ہے۔ اصول یہ ہےکہ یقینی چیزیں اپنے حکم پر باقی رہیں کی، محض شک اور گمان کی بنا پر انھیں اس سے الگ نہیں کیا جاۓ گا؛ شک چاہے قوی ہو یا کمزور، جب تک یہ شک یقین یا ظن غالب کے درجے تک نہ پہنچ جائے۔ اس کی بہت سی واضح مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال خود اس حدیث میں موجود ہے کہ جب انسان کو اپنی طہارت کا یقین ہو، پھر طہارت زائل ہونے کا شک ہونے لگے، تو اصولی طور پر یہی سمجھا جائے گا کہ اس کی طہارت باقی ہے۔ اس کے برعکس جسے عدم طہارت کا یقین ہو، اور طہارت ہونے کا شک ہو، اس کے بارے میں یہ سمجھا جائے گا کہ وہ حالت حدث میں ہے۔ کپڑے اور مقامات بھی اسی اصول کے تحت آتے ہیں کہ ان میں بھی طہارت ہی اصل ہوگی، ماسوا اس کے کہ نجاست کا یقین ہوجائے۔ اسی کی ایک مثال نماز میں رکعتوں کی تعداد ہے۔ جسے یہ یقین ہو کہ اس نے مثلا تین رکعتیں ادا کی ہیں اور چوتھی کا شک ہو، تو اصولا چوتھی کو معدوم سمجھا جائے گا اور اس شخص پر لازم ہو گا کہ وہ چوتھی رکعت پڑھے۔ اسی طرح ایک مثال طلاق کی ہے۔ جسے یہ شک ہو کہ اس نے اپنے بیوی کو طلاق دی ہے یا نہیں؟ تو اصولا اس کا نکاح باقی رہے گا۔ اسی طرح بہت سے دوسرے مسائل میں بھی یہ اصول کار فرما ہوتا ہے، جو مخفی نہیں ہیں۔
تشریح: العربية
هذا الحديث- كما ذكر النووي رحمه الله من قواعد الإسلام العامة وأصوله التي تبنى عليها الأحكام الكثيرة الجليلة، وهي أن الأصل بقاء الأشياء المتيقنة على حكمها، فلا يعدل عنها لمجرد الشكوك والظنون، سواء قويت الشكوك، أو ضعفت، مادامت لم تصل إلى درجة اليقين أو غلبة الظن، وأمثلة ذلك كثيرة لا تخفى، ومنها هذا الحديث، فما دام الإنسان متيقنا للطهارة، ثم شك في الحدث فالأصل بقاء طهارته، وبالعكس فمن تيقن الحدث، وشك في الطهارة فالأصل بقاء الحدث، ومن هذا الثياب والأمكنة، فالأصل فيها الطهارة، إلا بيقين نجاستها، ومن ذلك عدد الركعات في الصلاة، فمن تيقن أنه صلى ثلاثًا مثلًا، وشك في الرابعة، فالأصل عدمها، وعليه أن يصلي ركعة رابعة، ومن ذلك من شك في طلاق زوجته فالأصل بقاء النكاح، وهكذا من المسائل الكثيرة التي لا تخفى.
- القاعدة العامة وهي: أنَّ" الأصل بقاء ما كان على ما كان"، بمعنى أن ما حكم بثبوته في الماضي يحكم بثبوته في الحاضر حتى يثبت خلافه.
- مجرد الشك في الحدث لا يبطل الوضوء ولا الصلاة.
- تحريم الخروج من الصلاة لغير سبب بيِّن.
- الريح الخارجة من الدبر، بصوت أو بغير صوت، ناقضة للوضوء.
- يراد من سماع الصوت ووجدان الريح في الحديث التيقن من الحدث.
- من الأدب أن يتَجنَّب الألفاظ التي يستحيا من ذكرها.