حدیث

رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور ان کے گوشت، کھالوں اور جھولوں کو صدقہ کروں، نیز ان میں سے قصاب کو بہ طور اجرت کچھ بھی نہ دوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: «أَمَرَنِي رَسُول اللَّهِ -صلَّى الله عليه وسلَّم- أَن أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَن أَتَصَدَّقَ بِلَحمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا، وَأَن لا أُعْطِيَ الجَزَّارَ مِنهَا شَيْئًا».

ترجمہ

علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور ان کے گوشت، کھالوں اور جھولوں کو صدقہ کروں، نیز ان میں سے قصاب کو بہ طور اجرت کچھ بھی نہ دوں۔

تشریح

نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ کی طرف چلے۔ قربانی کے جانور ساتھ تھے۔ (اسی موقعے پر) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے آئے۔ ان کے ساتھ بھی قربانی کے جانور تھے۔ چوں کہ یہ فقرا اور مساکین کے لیے صدقہ تھے، اس لیے قربانی کرنے والے کو اس میں تصرف کرنے یا اس میں سے کچھ بطور معاوضہ دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ چنانچہ آپ نے انھیں ذبح کرنے والے کو بطور معاوضہ اس میں سے کچھ دینے سے منع فرمایا۔ بلکہ بطور اجرت گوشت، کھال اورجھول کے علاوہ کوئی دوسری چیز دی جائے گی۔

تشریح: العربية

قَدِمَ النبي صلى الله عليه وسلم مكة في حجة الوداع ومعه هديه وقدم علي بن أبى طالب رضي الله عنه من اليمن، ومعه هدي، وبما أنها صدقة للفقراء والمساكين، فليس لمهديها حق التصرف بها، أو بشيء منها على طريقة المعاوضة، فقد نهاه أن يعطي جازرها منها، معاوضة له على عمله، وإنما أعطاه أجرته من غير لحمها وجلودها وأجلتها.

  • مشروعية الهدي، وأنه من فعل النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • الأفضل كونه كثيرًا، عظيم النفع، فقد أهدى النبي -صلى الله عليه وسلم- مائة بدنة.
  • الأفضل أن يتصدق بها، وبما يتبعها، من جلود وأجلة، وله أن يأكل من هدي التطوع وما أهداه في الحج بأنواعه الثلث فأقل.
  • لا يعطى الجزار من الهدي شيئًا على سبيل المعاوضة والأجرة، أما إذا أعطي أجرته كاملة، ثم تصدق عليه صاحبها -إذا كان فقيرًا- فلا بأس.
  • جواز التوكيل في ذبحها والتصدق بها.
  • منع بيع شيء من الهدي كما يُمنع أن يجعل شيء من لحمها أجرة للجزار.
  • فضل علي بن أبي طالب -رضي الله عنه-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید