حدیث

تم میں سے ایک شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے، حالانکہ (یہ نہیں سوچتا کہ) شاید وہ اسی دن کے آخری حصہ میں اس سے ہم بستر بھی ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن زمعة رضي الله عنه أنّه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يخطب، وذكر الناقة والذي عقرها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذِ انبَعَثَ أشقاها: انْبَعَثَ لَهَا رجل عزِيز، عَارِم منيع في رَهطِه»، ثم ذكر النساء، فوعظ فيهنَّ، فقال: «يَعمِد أحدكم فيجلد امرأته جلد العبد، فلعلَّه يُضَاجِعُهَا من آخر يومه» ثمَّ وعظهم فِي ضَحِكِهم من الضَّرطَة، وقال: «لم يضحك أحدكم ممَّا يفعل؟!».

ترجمہ

عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک دن دوران خطبہ (صالح علیہ السلام کی) اونٹنی اور اس کی کوچیں کاٹنے والے کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت {إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ} تلاوت کی (اور فرمایا:) "اس کام کے لیے ایک سخت دل، طاقت ور، قبیلے کا قوی ومضبوط شخص اٹھا"۔ پھرآپ نےعورتوں کے متعلق نصیحت فرمائی۔ فرمایا: ”آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے، جب کہ اس بات کا امکان رہتا ہے کہ وہ دن کے آخری حصے میں (یعنی رات میں) اس کے پہلو میں سوئے بھی“۔ پھر ہوا خارج ہوجانےکی وجہ سے ہنسنے پر نصیحت کی۔ فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس کام پر کیوں ہنستا ہے، جو وہ خود بھی کرتاہے“۔

تشریح

نبیﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے جسے عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ نے سنا، آپﷺ نے جو خطبہ دیا اس میں انھوں نے آپﷺ کو اس اونٹنی کا ذکر کرتے ہوئے سنا جو حضرت صالح-على نبينا وعليه أفضل الصلاة والسلام- کو بطور معجزہ دی گئی تھی۔ آپﷺ نے دوران خطبہ اس بدبخت شخص کا بھی ذکر کیا جس نے اس اونٹنی کی ٹانگیں کاٹی تھیں۔ اس کا نام قُدار بن سالف تھا جو کہ قوم کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ اس بدبخت کے من جملہ اوصاف میں اس کا بھی ذکر آیا ہے کہ اس کے جیسا کوئی دوسرا بدبخت نہیں تھا، فسادی اور اپنی قوم میں اثر ورسوخ رکھنے والا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا: تم میں سے ایک شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہ، جو کہ عام طور پر ضربِ شدید (سخت مار) ہوا کرتی ہے۔ حدیث کا سیاق ایک عقل مند کی طرف سے دو امور کے صدور کو بعید تر قرار دیا گیا ہے؛ اپنی بیوی کی سخت پٹائی بھی کرے اور اسی دن یا اسی رات مجامعت بھی کرے۔ کیوں کہ جماع اور بیوی سے ہمبستری یہ اس وقت ہی اچھا لگتا ہے، جب رہن سہن میں ایک دوسرے کے ساتھ رغبت اور باہمی میلان ہو، جب کہ پٹائی سے دوچار ہونے والا شخص عام طور پر پٹائی کرنے والے سے متنفر رہتا ہے۔ اس طرح یہاں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ایک مذموم کام ہے۔ اگر مارنا ضروری ہو جائے، تو پھر ہلکی مار ماری جائے کہ باہمی نفرت کی فضا نہ پیدا ہو۔ مارنے اور ادب سکھانے میں افراط سے کام نہ لیا جائے۔ پھر آپﷺ نے ان کو نصیحت کی یعنی انہیں خبردار کیا۔ ہوا خارج ہوجانے پر ہنسنے سے۔ کیوں کہ یہ خلاف مروت ہے اور اس میں ہتک عزت بھی ہے۔ اس کی قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسے عمل پر کیوں ہنستا ہے، جسے وہ خود بھی کرتاہے؟۔ کیوں کہ ہنسی تو کسی عجیب وغریب بات پر آتی ہے! اگر صرف ہنسی کے آثار ظاہر ہوں، تو اسے تبسم کہا جاتاہے، اگر اس میں تھوڑی سے زیادتی ہو جائے اور ساتھ میں آواز پیدا ہو جائے، تو اس کو (ضحک) ہنسی کہا جاتا ہے اور اگر آواز بلند ہو جائے تو اسے قہقہہ کہا جاتا ہے۔ جب ریح کا خروج فطری طور پر ہر انسان سے ہوتاہے، تو اس پر ہنسنے کی کیا بات ہے؟

تشریح: العربية

كان صلى الله عليه وسلم يخطب، وسمعه عبد الله بن زمعة، ومن جملة ما خطب أنه سمع النبي ذكر الناقة التي كانت معجزة لنبي الله صالح -على نبينا وعليه أفضل الصلاة والسلام-، وكان من جملة ما ذكره أيضا الذي عقرها، يقال له قُدَار بن سالف والذي كان أشقى القوم، وجاء من أوصافه: أنه قليل المثل، شديد الإفساد، ذو منعة في قومه. ثم قال -عليه الصلاة والسلام- في خطبته: "يعمد أحدكم فيجلد امرأته جلد العبد" وهو في العادة ضرب شديد، وفي سياق الحديث استبعاد وقوع الأمرين من العاقل، أن يُبَالِغَ في ضرب امرأته ثم يجامعها من بقية يومه أو ليلته؛ والمجامعة أو المضاجعة إنما تستحسن مع الميل والرغبة في العشرة، والمجلود غالباً ينفر ممن جلده، فوقعت الإشارة إلى ذَمِّ ذلك، وأنه إذا كان ولا بد فليكن التأديب بالضرب اليسير بحيث لا يحصل معه النفور التام، فلا يفرط في الضرب ولا يفرط في التأديب. ثم (وعظهم) أي: حذَّرهم في (ضحكهم من الضرطة)؛ وذلك لأنه خلاف المروءة، ولما فيه من هتك الحُرمة، وقال في تقبيح ذلك: (لِم يضحك أحدكم مما يفعل؟)؛ وذلك لأنَّ الضحك إنما يكون من الأمر العجيب والشأن الغريب، يبدو أثره على البشرة فيكون التبسم، فإن قوي وحصل معه الصوت كان الضحك، فإن ارتقى على ذلك كانت القهقهة، وإذا كان هذا الأمر معتاداً من كل إنسان فما وجه الضحك من وقوع ذلك ممن وقع منه؟.

  • إخبار رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بقصص الماضين.
  • بيان معجزة صالح -عليه الصلاة والسلام- وهي الناقة.
  • ينبغي على العالم إذا وعظ الناس أن يذكرهم بسنن الله في الماضيين؛ لما فيها من مواعظ حسنة وذكرى للذاكرين.
  • عامة الناس تبع لعِلِّيَّة القوم وكبرائهم على الأغلب.
  • العامة متى رضيت بفساد الخاصة عمَّهم العذاب جميعًا.
  • إذا لم ينفع الوعظ والهجر في تأديب الزوجة التي يخشى منها النشوز، فليكن التأديب بالضرب اليسير الذي لا يحصل معه النفور التام، كما قال -تعالى-:(فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن).
  • الإيماء إلى جواز الضرب اليسير للنساء، مع عدم ضرب الوجه، بحيث لا يحصل معه النفور.
  • الضحك إنما يحصل في الأمر الغريب العجيب، وأما الأمر المعتاد من كل إنسان؛ فالضحك منه خلاف المروءة، وهتك لحرمة المسلم.
  • أن المجامعة إنما تستحسن مع الرغبة في العشرة فيستبعد وقوع الضرب الشديد، والمضاجعة في يوم واحد من عاقل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید