حدیث

’’کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے متنفر نہ ہو۔ اگر اسے اس کی کوئی خصلت بری لگتی ہے تو اس کی کوئی عادت اسے پسند بھی ہو گی‘‘۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي لله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ» أَوْ قَالَ: «غَيْرَهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ’’کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے متنفر نہ ہو۔ اگر اسے اس کی کوئی خصلت بری لگتی ہے تو اس کی کوئی عادت اسے پسند بھی ہو گی‘‘۔ یا پھر آپ ﷺ نے ''آخر'' کے بجائے "غیرہ" (دوسری عادت) فرمایا۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے شوہر کو بیوی سے ایسا بغض رکھنے سے منع کیا ہے، جو ظلم، ترک اور اعراض کی جانب لے جائے۔ کیوں کہ ہر انسان کے اندر فطری طور پر کمیاں موجود ہیں۔ لہذا اگر اس کی کوئی عادت ناپسند ہوگی، تو کوئی دوسری عادت پسند بھی ضرور ہوگی۔ ایسے میں جو عادت پسند ہو اس سے خوش ہو اور جو پسند نہ ہو اس پر صبر کرے۔ اس سے خوش گوار ماحول بنے گا اور ناپسندیدگی اس حد تک نہيں بڑھے گی کہ نوبت علاحدگی تک پہنچ جائے۔

فوائد

  • اس حدیث میں مومن کو عدل و انصاف سے کام لینے، بیوی کے ساتھ ہونے والے ہر تنازع میں عقل کو فیصل ماننے اور جذبات و وقتی انفعالات سے متاثر ہوکر کوئی کام نہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
  • ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی سے اس طرح کا کلی بغض نہ رکھے کہ علاحدگی کی نوبت آ جائے۔ اسے ناپسند باتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ان باتوں پر دھیان دینا چاہیے جو پسند ہوں۔
  • میاں بیوی کے درمیان حسن معاشرت کی ترغیب۔
  • ایمان اچھے اخلاق سے آراستہ ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ مومن مرد اور مومن عورت حسن اخلاق سے عاری نہیں ہوتے۔ اگر ایمان ہے تو کچھ اچھی خصلتیں ضرور ہوں گی۔
تشریح: العربية

نَهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم الزوج أن يُبغض زوجتَه بُغضًا يؤدّي إلى ظلمها وتركها والإعراض عنها؛ فإن الإنسان مجبول على النقص، وإن كره منها خُلقًا سيئًا، وجد فيها خلقًا آخر حسنًا؛ فيرضى بالحَسَن الذي يوافقه، ويصبر على ما لا يرضى من السيئ، مما يجعله يصبر ولا يكرهها كرهًا يحمله على فراقها.

  • دعوة المؤمن إلى العدل وتحكيم العقل في أي خلاف ينشأ مع زوجته، وعدم اللجوء إلى تحكيم العاطفة والانفعالات المؤقتة.
  • شأن المؤمن أن لا يبغض المؤمنة بغضًا كليًّا يحمله على فراقها، بل الذي ينبغي عليه أن يتغاضى عما يكره بما يحب.
  • الحث على حسن العشرة والصحبة بين الزوجين.
  • الإيمان داع لمكارم الأخلاق، فلا يخلو المؤمن والمؤمنة من خلق حسن؛ فالإيمان يستلزم وجود خصال محمودة فيهما.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید