ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه مرفوعاً: « المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ». وفي رواية: قِيلَ لِلنبي صلى الله عليه وسلم : الرَّجُلُ يُحِبُّ القَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَق بهم؟ قال: « المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ». عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، كَيفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أحَبَّ قَومًا ولم يَلحَق بِهم؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ».
ترجمہ
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے عمل نہیں کر پاتا۔(اس کا کیا ہو گا؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے“۔ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ: یا رسول اللہ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے عمل نہیں کر پاتا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے“۔
تشریح
انسان آخرت میں انہی لوگوں کے ساتھ ہو گا جن سے وہ دنیا میں محبت کرتا ہے۔ مذکورہ حدیث میں انبیاء ورسل اور نیک لوگوں سے بہت زیادہ محبت رکھنے اور حسب مراتب ان کی اتباع کرنے کی ترغیب ہے اور ان کے مخالفین سے محبت کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔ اس لیے کہ محبت اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب سے کس قدر تعلق رکھتا ہے، کس قدر اس کے اخلاق محبوب کے اخلاق سے مناسبت رکھتے ہیں اور کس حد تک وہ اس کی اقتدا کرتا ہے؟ چنانچہ محبت ان سب باتوں کے وجود کی دلیل ہے اوران پر آمادہ بھی کرتی ہے۔ جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہے، اس کی یہ محبت ہی وہ سب سے بڑی چیز ہے، جو اسے اللہ تعالی سے قریب کرتی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ قدر دان ہے۔ وہ نیکی کرنے والے کو اس کی کاوش سے کہیں بڑھ کر بدلہ دیتاہے۔ واضح رہے کہ محبت کرنے والے کا اس شخص کے ساتھ ہونا، جس سے وہ محبت کرتا ہے، اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ دونوں مقام ومرتبہ میں بھی برابر ہوں۔ کیوںکہ مراتب تو نیک اعمال اور نفع بخش تجارتوں کے تفاوت کے لحاظ سے مختلف ہوں گے۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ معیت تو کسی بھی چیز پر مجتمع ہونے کی وجہ سے حاصل ہو جاتی ہے، ضروری نہیں کہ اجتماع تمام چیزوں میں ہو۔ چنانچہ جب سب جنت میں چلے جائیں گے، تو اس سے معیت ثابت ہو جائے گی؛ اگرچہ درجات مختلف ہوں گے۔ جس نے رسول اللہ ﷺ سے یا پھر مومنین میں سے کسی سے محبت کی، وہ جنت میں اس کے ساتھ ہو گا؛ بشرطے کہ نیت اچھی رہی ہو؛ کیوں کہ نیت ہی اصل ہے اور عمل اس کے تابع ہے۔ البتہ اس کا ان کے ساتھ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا مقام ومرتبہ بھی وہی ہو، جو ان کا ہے اور نہ ہی یہ لازم آتا ہے کہ اسے ہر اعتبار سے وہی انعامات ملے، جو ان کو ملے ہیں۔
تشریح: العربية
الإنسان في الآخرة مع من أحبهم في الدنيا. الحديث فيه الحث على قوة محبَّة الرسل والصالحين، واتباعهم بحسب مراتبهم، والتحذير من محبة ضِدِّهم، فإنَّ المحبَّة دليل على قُوَّة اتصال المحب بمن يحبه، ومناسبته لأخلاقه، واقتدائه به، فهي دليل على وجود ذلك، وهي أيضا باعثة على ذلك، وأيضا من أحب الله تعالى، فإن نفس محبته من أعظم ما يُقرِّبه إلى الله، فإن الله تعالى شكور، يعطي المتقرب أعظم من ما بذل بأضعاف مضاعفة. وكون المحِّب مع من أحب لا يستلزم مساواته له في منزلته وعلوّ مرتبته؛ لأن ذلك متفاوت بتفاوت الأعمال الصالحة والمتَاجِر الرابحة، ذلك أنَّ المعية تحصل بمجرد الاجتماع في شيء ما، ولا تلزم في جميع الأشياء، فإذا اتفق أنَّ الجميع دخلوا الجنَّة صدقت المعية وإن تفاوتت الدرجات، فمن أحب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو أحداً من المؤمنين كان معه في الجنة بحسن النية لأنها الأصل، والعمل تابع لها ولا يلزم من كونه معهم كونه في منزلتهم، ولا أن يُجزَى مثل جزائهم من كل وجه.
- من جَهِل شيئًا من العلم سأل عنه، وتوجَّه إلى أهله وحملته.
- ينبغي على المسلم أن يختار أصدقاءه وأولياءه من الصالحين المتقين ليكون معهم؛ لأن المرء يحشر مع أحبائه.
- الأخلاء أعداء يوم القيامة إلا الأتقياء.
- الحب في الله طاعة يدرك بها المرء ما فاته أو قصر عنه من نوافل الطاعات.
- المؤمنون درجات في العمل والطاعة؛ فمنهم المقتصد، ومنهم السابق بالخيرات.
- على المسلم الفَطِن أن يتجنَّب صُحبة الأشرار والفساق كي لا يحشر معهم، فإن الصاحب ساحب.
- يستلزم هذا الحديث: الحث على محبة الصالحين؛ لأنَّ من أحبَّهم دخل معهم الجنة، والمعية تحصل بمجرد الاجتماع وإن تفاوتت الدرجات، والتحذير من محبة المشركين.