ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه :"أنَّ النبي صلى الله عليه وسلم لَقِيَه في بَعض طُرُقِ المدينَة وهو جُنُبٌ، قال: فَانْخَنَسْتُ مِنه، فذهبت فَاغْتَسَلْتُ ثم جِئْتُ، فقال: أين كنت يا أبا هريرة؟ قال: كُنتُ جُنُبًا فَكَرِهتُ أن أُجَالِسَك على غيرِ طَهَارَة، فقال: سبحان الله، إِنَّ المُؤمِنَ لا يَنجُس".
ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ مدینہ کے کسی راستے پر ان کی نبی ﷺ سے ملاقات ہو گئی۔ اس وقت وہ جنابت کی حالت میں تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں چپکے سے لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری کہ میں آپ کے ساتھ ناپاکی کی حالت میں بیٹھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! مومن نجس نہیں ہوتا“۔
تشریح
مدینہ کے ایک راستے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی۔ اتفاق سے وہ اس وقت جنبی تھے۔ نبی ﷺ کی تعظیم وتکریم کے تقاضے کے تحت انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ اس حالت میں آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھیں اور آپ سے گفتگو کریں۔ چنانچہ وہ چپکے سے نبیﷺ کے ہاں سے نکل گئے اور غسل کر کے واپس آئے۔ نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں چلے گئے تھے؟ انہوں نے آپ ﷺ کو ساری بات بتا دی کہ انہیں اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ ناپاکی کی حالت میں بیٹھیں۔ آپﷺ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر تعجب کا اظہار کیا کہ وہ جنبی کو نجس خیال کر رہے تھے چنانچہ اس وجہ سے غسل کرنے چلے گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ:مومن کسی بھی حال میں نجس نہیں ہوتا۔
تشریح: العربية
لقي أبو هريرة النبي صلى الله عليه وسلم في بعض طرق المدينة، وصادف أنه جنب فكان من تعظيمه للنبي صلى الله عليه وسلم وتكريمه إياه، أن كره مجالسته ومحادثته وهو على تلك الحال. فانسل في خفية من النبي صلى الله عليه وسلم واغتسل، ثم جاء إليه. فسأله النبي صلى الله عليه وسلم أين ذهب رضي الله عنه فأخبره بحاله، وأنه كره مجالسته على غير طهارة. فتعجب النبي صلى الله عليه وسلم من حال أبي هريرة رضي الله عنه حين ظن نجاسة الجنب، وذهب ليغتسل وأخبره: أن المؤمن لا ينجس على أية حال.
- كون الجنابة ليست نجاسة تحل البدن.
- طهارة المؤمن حيا وميتا.
- استحباب تنبيه المتبوع تابعه على الصواب وإن لم يسأله.
- جواز تأخير الغسل من الجنابة.
- تعظيم أهل الفضل، والعلم، والصلاح، ومجالستهم على أحسن الهيئات.
- مشروعية استئذان التابع للمتبوع في الانصراف، فقد أنكر النبي -صلى الله عليه وسلم- على أبي هريرة، ذهابه من غير علمه، وذلك أن الاستئذان من حسن الأدب.
- تعظيم الصحابة -رضي الله عنه- للنبي -صلى الله عليه وسلم-.
- قول: سبحان الله، عند التعجب.
- جواز تحدث الإنسان عن نفسه بما يستحيا منه للمصلحة.
- جواز مجالسة الجنب.
- عناية النبي -صلى الله عليه وسلم- بأصحابه وتفقده لهم.
- أن الكافر نجس، لكن نجاسته معنوية لخبث عقيدته.