حدیث

نبی ﷺ نے صحابۂ کرام کو ظہر کی نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعتوں پر بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، اور مقتدی لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہو گیے ، جب نماز ختم ہونے والی تھی اور لوگ آپ ﷺ کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے ”اللہ أكبر‏“ کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن بُحَيْنَةَ رضي الله عنه وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم «أن النبي صلى الله عليه وسلم صلَّى بهم الظهر فقام في الركعتين الأُولَيَيْنِ، ولم يَجْلِسْ، فقام الناس معه، حتى إذا قضى الصلاة وانتظر الناس تسليمه: كَبَّرَ وهو جالس فسجد سجدتين قبل أن يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ».

ترجمہ

عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول ہیں، نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے انھیں ظہر کی نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعتوں پر بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے۔ چنانچہ سارے لوگ آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ یہاں تک کہ جب نماز ختم ہونے لگی اور لوگ آپ ﷺ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، تو آپ ﷺ نے ”اللہ أكبر‏“ کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے۔ پھر سلام پھیرا۔

تشریح

نبی ﷺ نے صحابۂ کرام کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ جب پہلی دو رکعتیں پڑھ چکے، تو ان کے بعد تشہد اوّل کے لیے بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے۔ مقتدیوں نے بھی آپ کی اقتدا کی۔ یہاں تک کہ جب آخری دو رکعتیں پڑھ کر آخری تشہد کے لیے بیٹھ کر دعائے تشہد سے فارغ ہو گئے اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، تو بیٹھنے ہی کی حالت میں آپ نے ‘‘اللہ اکبر’’ کہا، پھر لوگوں کے ساتھ سلام پھیرنے سے پہلے نماز کے سجدوں کی طرح دو سجدے کیے، پھر سلام پھیر دیا۔ یہ دونوں سجدے (در اصل) چھوٹے ہوئے تشہد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تھے۔

تشریح: العربية

صلى النبي صلى الله عليه وسلم بأصحابه صلاة الظهر، فلما صلى الركعتين الأُولَيَيْن قام بعدهما، ولم يجلس للتشهد الأول، فتابعه المأمومون على ذلك. حتى إذا صلى الركعتين الأُخريين، وجلس للتشهد الأخير، وفرغ منه، وانتظر الناس تسليمه، كبَّر وهو في جلوسه، فسجد بهم سجدتين قبل أن يسلم مثل سجود صُلْبِ الصلاة، وهي سجدتي السهو، ثم سلم، وكان ذلك السجود جبراً للتشهد المتروك.

  • وجوب سجود السَّهْو لمن سها في الصلاة وترك التشهد الأول.
  • أن التشهد الأول، ليس بركن، ولو كان ركناً، لم يكفِ أن يسجد عنه سجود السهو، وليس بسنة فلو كان سنة لم يسجد للسهو، وهو واجب.
  • أن تعدد السهو يكفي له سجدتان، فإن النبي -صلى الله عليه وسلم- ترك -هنا- الجلوس والتشهد معاً.
  • أهمية متابعة الإمام، حيث أقرهم النبي -صلى الله عليه وسلم- على متابعته وتركهم الجلوس مع علمهم بذلك.
  • أن الإمام إذا سها فالمأمومون تابعون له ويسجدون معه.
  • أن السجود في مثل هذه الحال، يكون قبل السلام.
  • أن السلام يكون بعد سَجْدَتي السهو، فلا يفصل بينهما بتشهد أو دعاء.
  • وقوع السهو في الصلاة من النبي -صلى الله عليه وسلم؛ لأنه من النسيان، والنسيان من طبيعة البشر، ولحكمة أخرى، وهي أن يشرع حكمٌ في مثل هذا لأمته.
  • أنه يكبر لسجود السهو كما يكبر لغيرهما من السجود.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید