حدیث

اللہ کے رسول ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَن ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ»، وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.

ترجمہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے (تب بھی دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے) اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور "سَمِعَ الله لمن حَمِدَهُ رَبَّنَا ولك الحمد" کہتے۔ جب کہ سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں تین مقامات پر اپنے ہاتھوں کو کندھے کے برابر یا بالمقابل اٹھایا کرتے تھے۔ پہلا مقام : آغاز نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت۔ دوسرا مقام : رکوع کے لیے تکبیر کہتے وقت۔ تیسرا مقام : رکوع سے سر اٹھاتے اور "سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد" کہتے وقت۔ آپ سجدے میں جاتے وقت اور سجدے سے اٹھتے وقت ہاتھ نہيں اٹھاتے تھے۔

فوائد

  • دونوں ہاتھوں کو اٹھانے میں ایک حکمت یہ پنہاں ہے کہ یہ نماز کی زینت اور اللہ تبارک و تعالی کی تعظیم ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک چوتھی جگہ میں بھی ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔ اس کا ذکر سنن ابوداود وغیرہ میں ابو حمید ساعدی کی ایک روایت میں ہے۔ یہ جگہ ہے تین اور چار رکعت والی نمازوں میں پہلے تشہد سے کھڑے ہونے کا مقام۔
  • آپ سے دونوں ہاتھوں کو دونوں کانوں کی لو تک، ان کو چھوئے بغیر، اٹھانا بھی ثابت ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم جب تکبیر کہتے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاکر دونوں کانوں کی لو تک لے جاتے۔
  • "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" اور "رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ" دونوں صرف امام اور منفرد کہیں گے۔ مقتدی صرف "رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ" کہے گا۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رکوع کے بعد "رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ" کے چار صیغے نقل ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ انسان ان تمام صیغوں کا اتہمام کرے کبھی اسے پڑھے اور کبھی اسے۔
تشریح: العربية

كانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم يرفع يديه في ثلاثةِ مواضع من الصلاة إزاء أو مقابل المنكب الذي هو: مجمع عظم الكتف والعضد. الموضع الأول: إذا افتتح الصلاة عند تكبيرة الإحرام. الثاني: إذا كبّر للركوع. الثالث: إذا رفع رأسه من الركوع وقال: سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد. وكان لا يرفع يديه عند ابتداء السجود، ولا عند الرفع منه.

  • من حِكَم رفع اليدين في الصلاة أنها زينة للصلاة وتعظيم لله سبحانه.
  • ثبت عنه صلى الله عليه وسلم رفع يديه في موضع رابع كما في رواية أبي حميد الساعدي عند أبي داود وغيره، وهو عند القيام من التشهد الأول في الصلاة الثلاثية والرباعية.
  • ثبت عنه صلى الله عليه وسلم أيضًا أنه يرفع يديه حذو أذنيه دون لمس كما في رواية مالك بن الحويرث في الصحيحين: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا كبر رفع يديه حتى يحاذي بهما أذنيه».
  • الجمع بين التسميع والتحميد خاص بالإمام والمنفرد، أما المأموم فيقول: ربنا ولك الحمد.
  • قول: "رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ" بعد الركوع صح عن النبي صلى الله عليه وسلم فيه أربع صيغ، وهذه واحدة منها، والأفضل أن يتتبع المرء هذه الصيغ ويأتي بهذا مرة، وهذه مرة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید