حدیث

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے اسی طرح تشہد سکھایا، جیسے قرآن کی سورہ سکھاتے تھے۔ اس وقت میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں تھی

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنِ ابْنَ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ، التَّشَهُّدَ، كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ القُرْآنِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ». وفي لفظ لهما: «إِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ».

ترجمہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے اسی طرح تشہد سکھایا، جیسے قرآن کی سورہ سکھاتے تھے۔ اس وقت میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں تھی۔ (تشہد کے الفاظ کچھ اس طرح تھے :) "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔" بخاری اور مسلم میں ایک جگہ ہے : "بے شک اللہ ہی سلامتی والا ہے۔ لہذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے، تو کہے : "التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ۔" جب بندہ یہ الفاظ کہتا ہے، تو آسمان اور زمین میں رہنے والا اللہ کا ہر صالح بندہ اس کے دائرے میں آ جاتا ہے۔ "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"۔ پھر جو دعا چاہے، کرے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو وہ تشہد سکھایا، جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ تشہد سکھاتے وقت آپ نے ان کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا ہوا تھا، تاکہ ان کی پوری توجہ آپ پر مرکوز رہے۔ آپ نے تشہد اسی طرح سکھایا، جس طرح قرآن کی سورہ سکھاتے تھے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اس تشہد کے الفاظ اور معنی دونوں کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ نے کہا: "التَّحِيَّات لله" : اس سے مراد ہر وہ قول یا فعل ہے جو تعظیم پر دلالت کرتا ہو۔ اس طرح کے سارے اقوال اور افعال کا مستحق صرف اللہ ہے۔ "الصَّلَوَاتُ" : یعنی ساری نمازیں، فرض ہوں کہ نفل اللہ کے لیے ہیں۔ "الطَّيِّبَاتُ" : پاکی اور کمال پر دلالت کرنے والے سارے اقوال، افعال اور اوصاف اللہ تعالی کے لیے ہیں۔ "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته" : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر آفت اور ناپسندیدہ چیز سے سلامتی اور ہر بھلائی میں اضافہ اور کثرت کی دعا۔ "السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين" : نمازی اور آسمان اور زمین میں رہنے والے ہر صالح بندے کے لیے سلامتی کی دعا۔ "أشهد أن لا إله إلا الله" : یعنی پورے یقین کے ساتھ اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ "وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورسولُهُ" : میں آپ کے اللہ کا بندہ ہونے اور آخری رسول ہونے کا اقرار کرتا ہوں۔ اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نمازی کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ وہ جو دعا چاہے، کرے۔

فوائد

  • اس تشہد کا محل ہر نماز کے آخری سجدے کے بعد کا قعدہ اور دو اور تین رکعت والی نمازوں میں دوسری رکعت کے بعد کا جلسہ ہے۔
  • تشہد میں 'التحیات' پڑھنا واجب ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت الفاظ میں سے جن الفاظ میں چاہیں، تشہد پڑھنا جائز ہے۔
  • نماز میں پسندیدہ دعا کرنے كا جواز جب تک کہ وہ گناہ پر مبنی نہ ہو۔
  • دعا کرتے وقت آغاز اپنے نفس سے کرنا چاہیے۔
تشریح: العربية

عَلَّمَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم ابنَ مسعود رضي الله عنه التشهدَ الذي يقال في الصلاة، وقد جَعل يدَه في يديه، لِيَصْرِفَ انتباهَ ابنِ مسعود إليه. كما يُعَلِّمُه السورة من القرآن مما يدل على اعتناء النبي صلى الله عليه وسلم بهذا التشهد لفظًا ومعنى. فقال: "التَّحِيَّات لله": وهي كل قول أو فعل دَالٍّ على التعظيم، كلُّها مُسْتَحَقَّة لله عز وجل. "الصَّلَوَاتُ": وهي الصلاة المعروفة فرضُها ونفلُها لله تعالى. "الطَّيِّبَاتُ": هي الأقوال والأفعال والأوصاف الطيبة والدالّة على الكمال، كلُّها مستحقة لله تعالى. "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته": دعاء له بالسلامة من كل آفَةٍ ومكروه، والزيادة والكثرة من كل خير. "السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين": دعاء بالسلامة للمُصلي ولكل عبد صالح في السماء والأرض. "أشهد أن لا إله إلا الله": أي أُقِرُّ إقرارًا جازمًا به بأنه لا معبود حق إلا الله. "وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورسولُهُ": أُقِرُّ له بالعبودية والرسالة الخاتمة. ثم حَثَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم المصليَ أن يَختارَ مِن الدعاء ما شاء.

  • مَحلُّ هذا التشهدِ القعودُ بعد السجدة الأخيرة في كل صلاة، وبعد الركعة الثانية في الثلاثية والرباعية.
  • وجوب التحيات في التشهد، ويجوز أن يتشهدَ بأيِّ لفظ من ألفاظ التشهد مما ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم.
  • جواز الدعاء في الصلاة بما أحب ما لم يكن إثمًا.
  • استحباب البداءة بالنَّفْس في الدعاء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید