حدیث

جب تم میں سے کوئی کسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہا ہو، جو اس کے لیے لوگوں سے سترہ ہو اور کوئی اس کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرے تو اسے روک دے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑائی کرے، بلاشبہ وہ شیطان ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي سعيد الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه مرفوعًا: (إذا صلَّى أحدكم إلى شيء يَسْتُرُهُ من الناس، فأراد أحد أن يَجْتَازَ بين يديه فَلْيَدْفَعْهُ، فإن أبى فَلْيُقَاتِلْهُ؛ فإنما هو شيطان).

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی ایسی شے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھ رہا ہو جو اس کے اور لوگوں کے مابین حائل ہو اور پھر بھی کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے روکے اور اگر وہ نہ رُکے تو اس سے لڑے اس لیے کہ وہ شیطان ہے“۔

تشریح

شریعت نے تمام امور میں پختگی اور احتیاط کا حکم دیا ہے۔ دین و دنیا کا سب سے اہم کام نماز ہے۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے اس کا اہتمام کرنے کی ترغیب دی اور اس کے لیے سترہ رکھنے کا حکم دیا تاکہ جب نمازی نماز شروع کرے تو اس کے اور لوگوں کے مابین وہ آڑ بن جائے اور وہ اس کے سامنے سے گزر کر اس کی نماز میں خلل انداز نہ ہوں اور وہ پوری توجہ سے اپنے رب سے مناجات کرے۔ جب کوئی شخص اس کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ نرم سے نرم تر انداز میں اسے روکنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ نرمی اور آسانی سے نہ ہٹے تو پھر اس کی حرمت ختم ہوجاتی ہے اور وہ حد سے تجاوز کرنے والا بن جاتا ہے اور ایسے شخص کی زیادتی کو روکنے کا راستہ یہی ہے کہ اس سے ہاتھ کے ذریعے لڑا جائے کیونکہ اس کا یہ عمل شیاطین کی طرح کا عمل ہے جو لوگوں کی عبادات میں بگاڑ پیدا کرنے کے درپے رہتے ہیں اور ان کی نماز میں ان کی ترکیز کو گڈ مڈ کرتے ہیں۔

تشریح: العربية

يأمر الشرع باتخاذ الحزم والحيطة في الأمور كلها، وأهم أمور الدين والدنيا الصلاة، لذا حثَّ الشارع الحكيم على العناية بها واتخاذ السُتْرة لها إذا دخلَ المصلي في صلاته لتستره من الناس، حتى لا ينقصوا صلاته بمرورهم بين يديه، وأقبل يناجي ربه، فإذا أراد أحد أن يجتاز بين يديه، فليدفع بالأسهل فالأسهل، فإن لم يندفع بسهولة ويسر، فقد أسقط حرمته، وأصبح معتدياً، والطريق لوقف عدوانه، المقاتلة بدفعه باليد، فإن عمله هذا من أعمال الشياطين، الذين يريدون إفساد عبادات الناس، والتلبيس عليهم في صلاتهم.

  • مشروعية السترة للمصلى لِيَقيَ صلاته من النقص أو القطع.
  • مشروعية قربه منها، ليتمكن من رَدّ من يمر بينه وبينها، ولئلا يضيق على المارَّة.
  • تحريم المرور بين المصلي وبين سُتْرته؛ لأنه من عمل الشيطان.
  • منع من يريد المرور بين المصلى وبين سترته، ويكون بإشارة أو تسبيح أوَّلاً، فإن لم يندفع، منع ولو بِدَفعه، لأنه معتدٍ.
  • أن المدفوع بعد التنبيه والرفق معه إذا رفض وتسبب موته من الدفع فليس على الدافع ذنب ولا قصاص؛ لأن دفعه مأذون فيه، وما ترتب على المأذون فيه، غير مضمون.
  • مشروعية الحركة في الصلاة لمصلحتها.
  • يؤخذ منه أن الدفع لا يجوز إلا إذا صلى إلى سُتْرة معتبرة شرعاً.
  • جواز إطلاق لفظ الشيطان على من فتن شخصا في دينه.
  • يؤخذ منه مشروعية الدفع في الحرم المكي لعموم الحديث.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید