حدیث

محرم شخص کا ایسے شکار کے گوشت کو کھانا جو اس کے لیے شکار نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس نے اس کے شکار میں کوئی مدد کی ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي قَتَادَةَ الأنصاري رضي الله عنه «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج حاجًّا، فخرجوا معه، فصرف طائفة منهم -فيهم أبو قَتَادَةَ- وقال: خذوا ساحِل البحر حتى نَلْتَقِيَ. فأخذوا ساحل البحر، فلما انصرفوا أحرموا كلهم، إلا أبا قَتَادَةَ فلم يُحرم، فبينما هم يسيرون إذ رأوا حُمُرَ وَحْشٍ، فحمل أبو قَتَادَةَ على الْحُمُرِ، فَعَقَرَ منْها أَتَانَاً، فنزلنا فأكلنا من لحمها، ثم قلنا: أنأكل لحم صيد، ونحن محرمون؟ فحملنا ما بقي من لحمها فأدركنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فسألناه عن ذلك؟ فقال: منكم أحد أمره أن يحمل عليها، أو أشار إليها؟ قالوا: لا، قال: فكلوا ما بقي من لحمها»، وفي رواية: «قال: هل معكم منه شيء؟ فقلت: نعم، فناولته الْعَضُدَ ، فأكل منها».

ترجمہ

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حج کے ارادے سے نکلے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کو جس میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ ہدایت دے کر واپس بھیج دیا کہ تم لوگ ساحل سمندر کے راستہ پکڑ کر چلو یہاں تک کہ ہم سےآملو۔ چنانچہ انہوں نے ساحلِ سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ جب واپس ہوئے تو سوائے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے سب نے احرام باندھ لیا۔ وہ جب چلے آ رہے تھے تو انہیں کچھ نیل گائیں دکھائی دیں۔ ابوقتادہ نے نیل گایوں پر حملہ کر کے ایک مادہ کا شکار کر لیا۔ ہم نے (ایک جگہ) پڑاؤ کیا اور اس کا گوشت کھایا۔ پھر ہمیں خیال آیا کہ کیا ہم حالت احرام میں ہونے کے باوجود شکار کا گوشت کھا سکتے ہیں؟ چنانچہ جو کچھ گوشت بچا وہ ہم نے ساتھ لے لیا اور جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺنے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو اس پر حملہ آور ہونے کے لیے کہا تھا؟ یا کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا؟ سب نے کہا نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر بچا ہوا گوشت بھی کھا لو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس (شکار کے گوشت) میں سے کچھ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ یہ کہہ کر میں نےآپ ﷺ کو شانے کا گوشت دیا تو آپ ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا۔

تشریح

صلح حدیبیہ کے سال نبی ﷺ عمرہ کے ارادے سے نکلے۔ اہل مدینہ کا میقات یعنی ذو الحلیفہ،جو مدینہ کے قریب ہی واقع ہے، تک پہنچنے سے پہلے ہی آپ ﷺ تک یہ خبر پہنچی کہ ساحلِ سمندر کی طرف سے دشمن ان پر حملہ آور ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺنے اپنےصحابہ کے ایک گروہ کوجس میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے حکم دیا کہ وہ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ داہنی طرف والا راستہ لے لیں تا کہ دشمن کو روک سکیں۔ چنانچہ وہ اس طرف چلے گیے۔ جب مقررہ وقت پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے وہ واپس ہوئے تو سوائے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے سب نے احرام باندھ لیا۔ دورانِ سفر انھیں کچھ نیل گائیں نظر آئیں اور دل ہی دل میں انھوں نے چاہا کہ کاش ابوقتادہ اسے دیکھ لیں کیوں کہ وہ حالتِ احرام میں نہیں ہیں۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے جب نیل گایوں کو دیکھا تو ان پر حملہ آور ہوئے اور ایک مادہ نیل گائے کو شکار کر لیا اور سب نے اس کا گوشت کھایا۔ پھر انہیں کچھ شک لاحق ہوا کہ کیا حالت احرام میں ان کے لیے اسے کھانا جائز ہے یا نہیں؟ چنانچہ انھوں نے اس کے باقی ماندہ گوشت کو اپنے ہمراہ لیا یہاں تک کہ نبی ﷺ کے پاس آن پہنچے اور آپ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کیا ان میں سے کسی نے ابو قتادہ کو شکار کرنے کو کہا تھا؟ یا پھر انھیں بتا کر یا اشارہ کر کےان کی مدد کی تھی؟ انھوں نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوئی۔ اس پر آپ ﷺ نے انھیں اطمئنان دلایا کہ یہ ان کے لیے حلال ہے بایں طور کہ آپ ﷺ نے اس کے باقی ماندہ گوشت کو بھی کھانے کا حکم دیا اور ان کی طیب خاطر کے لیے آپ ﷺ نے خود بھی اس کا گوشت تناول فرمایا۔

تشریح: العربية

خرج النبي صلى الله عليه وسلم عام الْحُدَيْبِيَة، يريد العُمْرة. وقبل أن يصل إلى محرم المدينة، القريب منها، وهو "ذو الحليفة" بلغه أنَّ عَدُوُّاً أتى من قِبَل ساحل البحر يريده، فأمر طائفة من أصحابه -فيهم أبو قتادة- أن يأخذوا ذات اليمين، على طريق الساحل، ليصدُّوه، فساروا نحوه. فلما انصرفوا لمقابلة النبي صلى الله عليه وسلم في ميعاده، أحرموا إلا أبا قتادة فلم يحرم، وفي أثناء سيرهم، أبصروا حُمُر وَحْش، وتمنوا بأنفسهم لو أبصرها أبو قتادة لأنه حلال، فلما رآها حمل عليهاْ فعقر منها أَتاناً، فأكلوا من لحمها. ثم وقع عندهم شكٌّ في جوازِ أكلهم منها وهم محرمون، فحملوا ما بقي من لحمها حتى لحقوا بالنبي صلى الله عليه وسلم ، فسألوه عن ذلك فاستفسر منهم: هل أمره أحد منهم، أو أعانه بدلالة، أو إشارة؟ قالوا: لم يحصل شيء من ذلك. فَطَمْأَن قلوبهم بأنها حلال، إذ أمرهم بأكل ما بقي منها، وأكل هو صلى الله عليه وسلم منها تطييبًا لقلوبهم.

  • قبوله -صلى الله عليه وسلم- الهدية، تطييبا لقلوب أصحابها.
  • تحريم صيد الحلال على المحرم، إذا كان قد صِيدَ من أجله.
  • أن العمرة حج وتسمى الحج الأصغر.
  • مشروعية التحرز من العدو وأخذ الحذر وأن ذلك لا ينافي التوكل.
  • حِلُّ حُمر الوَحْش، وأنها من الصيد.
  • حل الصيد بقتله في أي موضع في بدنه.
  • مشروعية التورع عما يشك في أنه حلال.
  • كمال ورع الصحابة واحتياطهم حيث لم يأكلوا من اللحم حين شكوا ولم يرموه.
  • حسن تعليم النبي -صلى الله عليه وسلم- وشفقته على أمته.
  • جواز الاجتهاد في زمنه -صلى الله عليه وسلم-، لمن كان بعيدًا عنه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید