حدیث

سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ان کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ لوگوں میں سے کسی کے مرنے پر انہیں گرہن نہیں لگتا۔ جب تمہیں اللہ کی ان نشانیوں میں سے کوئی نظر آئے تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو یہاں تک کہ تمھیں لاحق ہونے والی وہ کیفیت دور ہوجائے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي مسعود عُقبة بن عَمْرو الأنصاري البَدْري رضي الله عنه مرفوعاً: «إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله، يُخَوِّفُ الله بهما عباده، وإنهما لا يَنْخَسِفَان لموت أحد من الناس، فإذا رأيتم منها شيئا فَصَلُّوا، وَادْعُوا حتى ينكشف ما بكم»

ترجمہ

ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ان کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ لوگوں میں سے کسی کے مرنے پر انہیں گرہن نہیں لگتا۔ جب تمہیں اللہ کی ان نشانیوں میں سے کوئی نظر آئے تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو یہاں تک کہ تمھیں لاحق ہونے والی وہ کیفیت دور ہوجائے“۔

تشریح

نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جو اس کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرتی ہیں اور یہ کہ ان کے فطری نظام میں تبدیلی بڑے لوگوں کی زندگی یا موت کی وجہ سے نہیں ہوتی جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں لوگوں کا عقیدہ تھا۔ لہٰذا زمین پر رونما ہونے والے واقعات ان پر اثر انداز نہیں ہوتے ہیں ایسا تو بندوں کو ان کے گناہوں اور ان پر ملنے والی سزاؤں سے ڈرانے کے لئے ہوتا ہے تا کہ وہ نئے سرے سے اللہ سے توبہ کریں اور اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اسی لئے نبی ﷺ نے ان کی راہنمائی فرمائی کہ جب تک یہ گرہن زائل نہ ہو جائے اور چھٹ نہ جائے تب تک وہ نماز اور دعا میں لگے رہیں۔ اور اللہ تعالی کے اپنی کائنات میں بہت سے اسرار اور انداز تصرف ہیں۔

تشریح: العربية

بيَّن صلى الله عليه وسلم أن الشمس والقمر من آيات الله الدالة على قدرته وحكمته، وأن تغيُّر نظامهما الطبيعي، لا يكون لحياة العظماء أو موتهم كما يعتقد أهل الجاهلية فلا تؤثر فيهما الحوادث الأرضية. وإنما يكون ذلك لأجل تخويف العباد، من أجل ذنوبهم وعقوباتهم فيجددوا التوبة والإنابة إلى الله تعالى. ولذا أرشدهم أن يفزعوا إلى الصلاة والدعاء، حتى ينكشف ذلك عنهم وينجلي، ولله في كونه أسرار وتدبير.

  • مشروعية الصلاة والدعاء عند الكسوف والخسوف، رجوعاً إلى الله.
  • أن انتهاء الصلاة يكون بالتجلي -أي انتهاء الكسوف- فإن انتهت قبل التجلي تضرعوا ودعوا، حتى يزول ذلك
  • ظاهر الحديث أنهم يصلون، ولو صادف وقت نَهْي؛ لأنها من ذوات الأسباب التي تصلى عند وجود سببها مطلقا
  • أن الحكمة في إيجاد الكسوف أو الخسوف، هو تخويف العباد، وإنذارهم بعقاب الله تعالى، وإزعاج القلوب الساكنة بالغفلة وإيقاظها وإطلاع الناس على نموذج مما يقع يوم القيامة.
  • أن الشمس والقمر آيتان من آيات الله -تعالى- الدالة على عظيم قدرته وواسع رحمته وعلمه.
  • أنهما لا ينكسفان لموت أحد من الناس
  • أن صلاة الكسوف تفعل عند رؤيته ولا يعتمد فيها على حساب الفلكيين.
  • ينبغي الخوف عند رؤية التغيرات العلوية السماوية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید