حدیث

’’میں کہتا ہوں: اللھم باعد بینی وبین خطایاي کما باعدت بین المشرق والمغرب

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ «أَقُولُ: اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ جب (آغاز ) نماز کے لیے تکبیر کہتے، تو قراءت کرنے سے پہلے کچھ دیر سکوت فرماتے۔ میں نےعرض کیا : اے اللہ کے رسول (ﷺ)! میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ جو تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی خاموشی ہے، (اس کے دوران میں ) آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا: ’’میں کہتا ہوں: اللھم باعد بینی وبین خطایاي کما باعدت بین المشرق والمغرب۔ اللہم نقني من خطایاي کما ینقی الثوب الابیض من الدنس۔ اللھم اغسلني من خطایاي بالثلج والماء والبرَد"۔ ترجمہ: اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دھودے، برف کے ساتھ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ‘‘۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز کی تکبیر کہتے، تو سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے ذرا دیر رکتے۔ اس وقفے میں کچھ دعاؤں کے ذریعے نماز کا آغاز کرتے۔ ان میں سے ایک دعا یہ ہے : "اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دھودے، برف کے ساتھ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ"۔ آپ اللہ عز و جل سے دعا کرتے کہ وہ آپ کو گناہوں میں ملوث ہونے سے بچانے کے لیے آپ کے اور آپ کے درمیان اتنی دوری بنا دے کہ دونوں ایک دوسرے سے مل نہ سکيں۔ جیسے کہ مشرق اور مغرب کبھی آپس میں مل نہیں سکتے۔ اور اگر اس میں ملوث ہو بھی جائيں، تو ان سے آپ کو ایسے صاف ستھرا کر دے کہ جیسے سفید کپڑے سے میل کچیل کو دھو کر صاف ستھرا کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ کو پانی، برف اور اولہ جیسی ٹھنڈی چیزوں کے ذریعے گناہوں سے دھو دے اور گناہوں کی تپش اور گرمی کو ٹھنڈا کر دے۔

فوائد

  • دعائے استفتاح پست آواز میں پڑھی جائے گی خواہ نماز جہری ہی کیوں نہ ہو۔
  • صحابہ رضي الله عنهم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرکات وسکنات کو جاننے کی حرص رکھتے تھے۔
  • دعائے استفتاح کے اور بھی صیغے وارد ہوئے ہيں۔ بہتر یہ ہے کہ انسان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے وارد اور ثابت استفتاح کی دعاؤں کو یاد کرلے اور کبھی اسے پڑھے تو کبھی اسے۔
تشریح: العربية

كَانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم إذا كبَّر للصلاة يسكت سكتة لطيفة قبل أن يقرأ الفاتحة، يستفتح فيها صلاته ببعض الأدعية، ومما ورد من هذه الأدعية قوله: «اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم نقني من خطاياي، كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، اللهم اغسلني من خطاياي بالثلج والماء والبرد»، فهو يدعو الله عز وجل أن يباعد بينه وبين الخطايا بأن لا يقع فيها، إبعادًا لا يحصل معه لقاء، كما لا لقاء بين المشرق والمغرب أبدًا، وإن وقع فيها أن ينقيه منها ويزيلها كما يزال الوسخ من الثوب الأبيض، وأن يغسله من خطاياه ويبرد لهيبها وحرها، بهذه المطهرات الباردة؛ الماء، والثلج، والبرد.

  • الإسرار بدعاء الاستفتاح ولو كانت الصلاة جهرية.
  • حرص الصحابة رضي الله عنهم على معرفة أحوال الرسول صلى الله عليه وسلم في حركاته وسكناته.
  • وردت صيغ أخرى لدعاء الاستفتاح، والأفضل أن يتتبع المرء الاستفتاحات الواردة والثابتة عنه صلى الله عليه وسلم، فيأتي بهذا مرة، وهذا مرة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید