حدیث

کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات نہ بتا دوں، جو کسی نبی نے اپنی قوم کونہیں بتائی؟ وہ کانا ہوگا اور اپنے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا عَنِ الدَّجَّالِ، مَا حَدَّثَ بِهِ نَبِيٌّ قَوْمَهُ؟ إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ بِمِثَالِ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الجَنَّةُ هِيَ النَّارُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمْ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات نہ بتا دوں، جو کسی نبی نے اپنی قوم کونہیں بتائی؟ وہ کانا ہوگا اور اپنے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔ پس جسے وہ جنت کہے گا، درحقیقت وہی دوزخ ہو گی۔ میں تمھیں اس سے اسی طرح خبردار کرتا ہوں، جس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ساتھیوں کو دجال، اس کی صفات اور علامتوں سے تعلق رکھنے والی ایسی باتیں بتا رہے ہیں، جو پہلے کسی نبی نے نہيں بتائی تھی۔ مثلا : وہ کانا ہوگا۔ اللہ تعالى اس کے ساتھ دو چیزیں رکھے گا، جو لوگوں کى نگاہوں میں جنت اور جہنم کی طرح دکھیں گی۔ لیکن حقیقت میں اس کی جنت جہنم ہوگی اور اس کی جہنم جنت۔ جو اس کی بات مانے گا، اسے وہ جنت جیسی جگہ میں داخل کرے گا، لیکن حقیقت میں وہ جہنم ہوگی۔ جو اس کی بات نہيں مانے گا، اسے وہ جہنم جیسی دکھنے والی جگہ میں داخل کرے گا، جو حقیقت میں جنت ہوگی۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں اس سے خبردار کیا ہے، جس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔

فوائد

  • دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہوگا۔
  • دجال کے فتنے سے نجات کا ذریعہ سچا ایمان، لجوء الی اللہ، آخری تشہد میں اس سے اللہ کی پناہ مانگنا اور سورہ کہف کے شروع کی دس آیتوں کو یاد کرنا ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت کی نجات کے شدید حریص تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو دجال کی ایسی صفات بتائیں، جو پہلے کسی نبی نے نہيں بتائيں تھیں۔
تشریح: العربية

يُخبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أصحابه عن الدجال وصفاته وعلاماته بما لم يحدِّث به نبي قبله، فمن ذلك: أنه أعور العين. وأن الله تعالى جعل معه مثل الجنة والنار، بحسب رؤيا العين. لكن جنته نار، وناره جنة، من أطاعه أدخله هذه الجنة فيما يرى الناس، ولكنها نار محرقة، ومن عصاه أدخله النار فيما يراه الناس، ولكنها جنة طيبة، ثم حذرنا النبي صلى الله عليه وسلم من فتنته كما حذّر به نوح قومه.

  • عظم فتنة الدجال.
  • النجاة من فتنة الدجال تكون بصدق الإيمان واللجوء إلى الله تعالى والاستعاذة بالله منه في التشهد الأخير، وحفظ عشر آيات من أول سورة الكهف.
  • شدة حرص النبي صلى الله عليه وسلم على أمته، حيث بين للمسلمين من صفات الدجال ما لم يبينه نبي قبله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید