حدیث

سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اورتم میں سے کوئی بھی شخص اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أَنَس بن مالك رضي الله عنه عَنْ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «اعْتَدِلُوا في السجود، ولا يَبْسُطْ أحدكم ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الكلب».

ترجمہ

انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اور تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے“۔

تشریح

نبی ﷺ نے سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ نمازی سجدے میں اچھی ہیئت اختیار کرے بایں طور کہ اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر ٹکا لے، اپنے بازوؤں کو اوپر اٹھا لے اور انھیں پہلوؤں سے دور رکھے۔ کیوں کہ یہ حالت نماز میں چستی اور دلچسپی کی غمازی کرتی ہے اور ا س اچھی ہیئت میں تمام اعضاء اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنے اپنے حصے کی عبادت سر انجام دے سکیں۔ سجدے میں بازوؤں کو بچھانے سے منع کیا گیا کیوں کہ یہ سستی اور اکتاہٹ کی دلیل ہے اور اس میں کتے کی مشابہت ہوتی ہے جو کہ ایک غیر مناسب مشابہت ہے۔

تشریح: العربية

أمر النبي صلى الله عليه وسلم بالاعتدال في السجود، وذلك بأن يكون المصلي على هيئة حسنة في السجود، حيث يجعل كفيه على الأرض، ويرفع ذراعيه ويبعدهما عن جَنْبيه، لأن هذه الحال عنوان النشاط والرغبة المطلوبين في الصلاة، ولأن هذه الهيئة الحسنة تُمكِّن أعضاء السجود كلها من الأخذ بحظها من العبادة. ونُهِيَ عن بسط الذراعين في السجود؛ لأنه دليل الكسل والملل، وفيه تشبه بالكلب، وهو تشبه بما لا يليق.

  • وجوب الاعتدال في السجود، على الهيئة المشروعة.
  • تحريم بسط الذراعين في السجود، لأنه دليل الكسل، وفيه تشبه بجلوس الكلب.
  • التحذير من مشابهة الحيوانات، خصوصاً في حال أداء العبادة.
  • في هذه الهيئة وهي بسط الذراعين قلة الاعتناء بالصلاة ، والتهاون بها.
  • الاعتدال في السجود أبلغ في تمكين الجبهة من الأرض.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید