حدیث

میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انھوں نے کہا ’ہاں‘۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن مَسْلَمَةَ سَعِيدِ بْنِ يَزِيد قال: سألت أنس بن مالك: أكان النبي صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي في نَعْلَيْهِ؟ قال: «نعم».

ترجمہ

ابومسلمہ سعید بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انھوں نے کہا ’ہاں‘۔

تشریح

یہود کی مخالفت اور اس چیز کا ازالہ جس میں مسلمانوں کے لیے کوئی تنگی یا مشقت ہو اس کو دور کرنا مقاصدِ شریعت میں شامل ہے۔ سعید بن یزید جو کہ ثقات تابعین میں سے ہیں انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کےبارے میں پوچھا کہ کیا آپ ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے، تاکہ یہ ان کے لیے اس سلسلے میں قابلِ تقلید نمونہ بن جائے؟ یا آپ ﷺ جوتے دور رکھتے کیوں کہ ان میں زیادہ طور پر گندگی اور تکلیف دہ چیزیں لگی ہوتی ہیں! تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان کو جواب دیا کہ: ہاں رسول اللہ ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے اور یہ آپ کی سنت مطہرہ سے ہے، یہ کسی خاص جگہ یا مخصوص وقت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

تشریح: العربية

من المقاصد الشرعية مخالفة أهل الكتاب، وإزالة كل شيء فيه مشقة وحرج على المسلم، وقد سأل سعيد بن يزيد وهو من ثقات التابعين أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم: أكان يصلى في نعليه؛ ليكون له قدوة فيه؟ أو كأنه استبعد ذلك لما يكون فيها من القذر والأذى غالبًا، فأجابه أنس: نعم، كان يصلى في نعليه، وأن ذلك من سنته المطهرة، وهذا ليس خاصًّا بأرض أو زمن معين.

  • حرص السلف في البحث في العلم.
  • استحباب الصلاة في النعلين، حيث كان من فعل النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • جواز دخول المسجد بهما، بعد تنظيفهما من الأقذار والأنجاس.
  • أن غلبة الظن في نجاستهما لا تخرجهما عن أصل الطهارة فيهما.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید