حدیث

قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نہ نکل آئے جس پر لڑ ائی ہوگی اور ہر سو ميں سے ننانوے آدمی مارے جائيں گے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «لا تقوم الساعة حتى يحسر الفرات عن جبل من ذهب يُقْتَتَلُ عليه، فَيُقْتَلُ من كل مائة تسعة وتسعون، فيقول كل رجل منهم: لعلي أن أكون أنا أنجو». وفي رواية: «يوشك أن يحسر الفرات عن كنز من ذهب، فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نہ نکل آئے جس پر لڑ ائی ہوگی اور ہر سو ميں سے ننانوے آدمی مارے جائيں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ سوچے گا کہ شاید میں بچ جاؤں“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ”قريب ہے کہ دریائے فرات (خشک ہوکر) سونے کے خزانے کو ظاہر کردے۔ لہٰذا جو شخص اس وقت موجود ہو، اس میں سے کچھ بھی نہ لے“۔

تشریح

پیارے نبی ﷺ ہمیں بتلا رہے ہیں کہ قیامت کے قریب دریائے فرات سونے کا ایک خزانہ یا سونے کا ایک پہاڑ ظاہرکرے گا، یعنی سونا ایک پہاڑ کی شکل میں نکلے گا اور لوگ اس کے حصول کے لیے باہم لڑیں گے کیونکہ یہ ایک فتنہ ہوگا۔ پھر آپ ﷺ ہم میں سے اس شخص کو جو اس وقت موجود ہو اس کے لینے سے منع کررہے ہیں کیونکہ کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ہو سکتا ہے کہ جو لوگ اس وقت موجود ہوں ان میں سے کچھ لوگ اس حدیث کی تاویل کریں اور حديث کو اس کی حقیقی معنی سے پھیر کر کوئی اور معنی مراد ليں تاکہ اپنے لئے اس خزانے سے کچھ لينے کو جائز ٹھہرا سکیں۔ ہم فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

تشریح: العربية

يخبرنا نبينا الكريم صلى الله عليه وسلم أن قرب قيام الساعة يكشف نهر الفرات عن كنز من ذهب أو جبل من ذهب بمعنى أن الذهب يخرج جبلا، وأن الناس سيقتتلون عليه لأن ذلك من الفتن، ثم ينهانا صلى الله عليه وسلم عن الأخذ منه لمن أدرك ذلك؛ لأنه لا أحد ينجو منه، وربما يتأول بعض من يحضر ذلك هذا الحديث ويصرفه عن معناه ليسوغ لنفسه الأخذ منه، نعوذ بالله من الفتن.

  • فيه التنبيه إلى قرب الساعة وأن الناس غافلون عما فيها من أهوال.
  • التنافس على حطام الدنيا وزينتها يفضي إلى البغي والاقتتال.
  • أن الذهب يسلب العقول، فكل إنسان يقاتل غيره ويقول لعلي أنا الذي أنجو ويقاتل من أجل أن يحصل على الذهب.
  • أن الناس جبلوا على الطمع والجشع بسبب حبهم للدنيا فلو كان لأحدهم وادي من ذهب لابتغى واحدا آخر.
  • حرمة الأخذ من ذلك الذهب لقوله -صلى الله عليه وسلم-: "فمن حضره لا يأخذ منه شيئا".

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید