حدیث

لوگوں پر ضرور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا، لیکن کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اور یہ بھی ہو گا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس چالیس عورتیں ہو جائیں گی؛ ایسا مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لَيَأْتِيَنَّ على الناس زمانٌ يَطُوفُ الرجلُ فيه بالصدقة من الذهب فلا يجد أحدا يأخذها منه، ويُرَى الرجلُ الواحدُ يَتْبَعُهُ أربعون امرأة يَلُذْنَ به من قِلَّةِ الرجال وكَثْرَةِ النساء».

ترجمہ

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر ضرور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا، لیکن کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اور یہ بھی ہو گا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس چالیس عورتیں ہو جائیں گی؛ ایسا مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا“۔

تشریح

عن قریب لوگوں کے یہاں مال کی بہتات ہوگی، یہاں تک کہ اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا۔ نیز مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت ہوگی؛ ایسا یا تو ہلاکت خیز جنگوں کی وجہ سے ہوگا یا خواتین کی کثرتِ ولادت کی وجہ سے۔ یہاں تک کہ ایک مرد کے پاس چالیس عورتیں ہوں گی، بشمول اس کی بیٹیوں، بہنوں اور دیگر قریبی خواتین وغیرہ کے، جو اس کی پناہ و مدد کی خواست گار ہوں گی۔

تشریح: العربية

سيكثر المال بين يدي الناس حتى لا يوجد من يأخذه، وسيقل الرجال ويكثر النساء إما بسبب الحروب الطاحنة وإما لكثرة ولادة النساء، حتى يكون للرجل الواحد أربعون امرأة، من بنات وأخوات وشبههن من القريبات يلتجئن إليه ويستغثن به.

  • الحض على التبكير في إخراج الصدقات.
  • الإشارة إلى كثرة المال بين يدي الناس حتى لا يوجد من يأخذه في آخر الزمان.
  • الإشارة إلى كثرة الحروب والقتل في آخر الزمان مما يؤدي إلى قتل الرجال فيقلون ويكثر النساء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید