حدیث

نیک لوگ یکے بعد دیگر گزر جائیں گے اور پھر گھٹیا جَو یا گھٹیا کھجور کی طرح کے کچھ لوگ رہ جائیں گے، جن کی اللہ تعالی کو کچھ بھی پروا نہ ہو گی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن مرداس الأسلمي رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: «يذهب الصالحون الأول فالأول، ويبقى حُثَالَةٌ كَحُثَالَةِ الشعير أو التمر لا يُبَالِيهُم الله بَالَةً».

ترجمہ

مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نیک لوگ یکے بعد دیگر گزر جائیں گے اور پھر گھٹیا جَو یا گھٹیا کھجور کی طرح کے کچھ لوگ رہ جائیں گے، جن کی اللہ تعالی کو کچھ بھی پروا نہ ہو گی“۔

تشریح

نبی کریم ﷺ ہمیں خبر دے رہے ہیں کہ قرب قیامت میں اللہ تعالی نیک لوگوں کی روحیں قبض فرما لیں گے اور پھر ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے، جو کسی اہتمام وتوجہ کے مستحق نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالی نہ انھیں کوئی قدر و قیمت اور وقعت دے گا اور نہ ان پر رحمت نازل کرے گا۔ اللہ کے نزدیک یہ بد ترین لوگ ہوں گے اور انہی پر قیامت آئے گی۔

تشریح: العربية

يخبرنا النبي الكريم صلى الله عليه وسلم أنه في آخر الزمان يقبض الله أرواح الصالحين، ويبقى أناس ليسوا أهلًا للعناية، فلا يرفع الله لهم قدراً ولا يقيم لهم وزناً ولا يرحمهم ولا ينزل عليهم الرحمة وهم شرار الخلق عند الله وعليهم تقوم الساعة.

  • أن موت الصالحين وأهل العلم والفضل من أشراط الساعة.
  • الندب إلى الاقتداء بأهل الخير، والتحذير من مخالفتهم.
  • لا يبقى في آخر الزمان إلا أهل الجهل ممن لا يعرفون معروفًا ولا ينكرون منكرًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید